السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع المخاضرة باب: بیعِ مخاضرہ (پھل اور فصل کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10583
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ "، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمُخَاضَرَةُ: أَنْ تُبَاعَ الثِّمَارُ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَهِيَ خَضِرٌ بَعْدُ وَيَدْخُلُ فِي الْمُخَاضَرَةِ أَيْضًا بَيْعُ الرِّطَابِ وَالْبُقُولِ وَأَشْبَاهِهَا؛ وَلِهَذَا كَرِهَ مَنْ كَرِهَ بَيْعَ الرِّطَابِ أَكْثَرَ مِنْ جَزَّةٍ وَاحِدَةٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن یونس بن قاسم یمامی رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ۔“ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مخاضرہ یہ ہوتی ہے کہ پھل پکنے سے پہلے فروخت کر دیا جائے جبکہ وہ ابھی سبز ہو، اور مخاضرہ میں تر کھجور، سبزیوں اور اس کے مشابہ کی بیع بھی شامل ہے۔ اس وجہ سے اسے اس شخص نے مکروہ خیال کیا جس نے ایک حصہ سے زائد پر تر کھجور کی بیع کو ناپسند کیا ہے۔