حدیث نمبر: 10585
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَلَا تَبَايَعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. ⦗٤٨٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ ابْنَ عُمَرَ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پھل پکنے سے پہلے فروخت نہ کرو اور نہ تم خشک کھجور کے بدلے پھل کو فروخت کرو۔“
حدیث نمبر: 10586
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي عَرَزَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 10587
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ " وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ، " عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ " وَقَالَ الْمُشْتَرِيَ بَدَلَ الْمُبْتَاعِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، ⦗٤٨٩⦘ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے،“ آپ ﷺ نے ”خریدنے اور فروخت کرنے والے (دونوں) کو منع فرمایا ہے“۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھلوں کی بیع اور مشتری کی جگہ مبتاع کے لفظ ہیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھلوں کی بیع اور مشتری کی جگہ مبتاع کے لفظ ہیں۔
حدیث نمبر: 10588
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَتَذْهَبَ عَنْهَا الْآفَةُ " قَالَ: يَبْدُو صَلَاحُهَا، حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھل پکنے سے پہلے فروخت نہ کرو تاکہ آفات اس سے ختم ہو جائیں“، فرمایا: ”پھل کا پکنا اس کا سرخ یا زرد ہونا ہے۔“
حدیث نمبر: 10589
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 10590
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَصَلَاحُهُ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کا پکنا یہ ہے کہ اس سے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 10591
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ مَا صَلَاحُهُ؟ قَالَ: تَذْهَبُ عَاهَتُهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ پھل کا پکنا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کی آفات ختم ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 10592
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ "، قِيلَ: وَمَتَى ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَ: " إِذَا طَلَعَتِ الثُّرَيَّا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھلوں کو فروخت کرنے سے منع کر دیا جب تک آفات سے بے خوف نہ ہوا جائے۔“ کہا گیا: اے ابو عبدالرحمن! یہ کب ہوتا ہے؟ فرمایا: ”جب ثریا ستارہ طلوع ہو۔“
حدیث نمبر: 10593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ: " حَتَّى تَحْمَرَّ "، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَقُولَا يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ قَالَا، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ؟ " وَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَقِيلَ لَهُ وَقَالَ الْآخَرُ: قَالُوا، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ مَالِكٍ كَمَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا پکنا کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سرخ ہو جائے“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پھل کو روک لیں تو پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں کر لو گے؟“
(ب) ابوطاہر، ابن وہب اور وہ امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے ”یا رسول اللہ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور نہ ہی ”قال رسول اللہ“ کے الفاظ ذکر کیے ہیں، بلکہ ان دونوں نے کہا: «أَرَأَيْتَ» ”تمہارا کیا خیال ہے“، ان میں سے ایک نے «فَقِيلَ لَهُ» ”پس ان سے کہا گیا“ اور دوسروں نے «قَالُوا» ”انہوں نے کہا“ کے الفاظ بولے ہیں۔
(ب) ابوطاہر، ابن وہب اور وہ امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے ”یا رسول اللہ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور نہ ہی ”قال رسول اللہ“ کے الفاظ ذکر کیے ہیں، بلکہ ان دونوں نے کہا: «أَرَأَيْتَ» ”تمہارا کیا خیال ہے“، ان میں سے ایک نے «فَقِيلَ لَهُ» ”پس ان سے کہا گیا“ اور دوسروں نے «قَالُوا» ”انہوں نے کہا“ کے الفاظ بولے ہیں۔
حدیث نمبر: 10594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللهُ فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ پھل عطا نہ کرے تو کیوں کر تم اپنے بھائی کے مال کو حلال خیال کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 10595
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ، ثنا ⦗٤٩٠⦘ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ ثَمَرَةِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ "، قُلْنَا لِأَنَسٍ: مَا زَهْوُهُ؟ قَالَ: " يَحْمَرُّ "، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اس کا پکنا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ سرخ ہو جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ پھل کو روک لے، پھر تیرے بھائی کا مال تیرے لیے کیسے جائز ہو گا؟“
حدیث نمبر: 10596
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ "، قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَمَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: " تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ "، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إنْ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے“، میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اس کا پکنا کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سرخ و زرد ہو جانا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”اگر اللہ تعالیٰ پھل کو روک لے تو پھر اپنے بھائی کے مال کو کیوں کر حلال سمجھو گے؟“
حدیث نمبر: 10597
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ " قِيلَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ وَمَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: " حَتَّى تَحْمَرَّ وَتَصْفَرَّ "، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ حَبَسَ اللهُ الثِّمَارَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ حُمَيْدٍ وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَنَسٌ: " أَرَأَيْتَ إنْ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟ "، وَكَذَلِكَ قَالَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ فَجَعَلَ الْجَوَّابَ عَنْ تَفْسِيرِ الزَّهْوِ، وَقَوْلُهُ: " أَرَأَيْتَ إنَ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَ؟ "، مِنْ قَوْلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ جَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ الدَّرَاوَرْدِيُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْهُ، فَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حمید طویل کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پھلوں کی بیع کے متعلق سوال کیا گیا تو وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا، کہا گیا: اے ابو حمزہ! اس کا پکنا کیا ہے؟ فرمایا: ”سرخ و زرد ہو جائے۔“ فرماتے ہیں: ”اگر اللہ پھلوں کو روک لے تو آپ اپنے بھائی کے مال کیسے حلال خیال کریں گے؟“
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے زہو کی تفسیر کے جواب میں کہا: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَ» ”تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ پھل کو روک لے؟“، یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس کو نبی ﷺ کا قول قرار دیا ہے۔
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے زہو کی تفسیر کے جواب میں کہا: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَ» ”تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ پھل کو روک لے؟“، یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس کو نبی ﷺ کا قول قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 10598
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَضِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مِقْسَمٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور دانے کی بیع یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے اور انگور کی بیع یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 10599
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " ⦗٤٩١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 10600
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ " قِيلَ: وَمَا تُشَقِّحُ؟ قَالَ: " تَحْمَارُّ أَوْ تَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا، یہاں تک کہ وہ پک جائیں، عرض کیا گیا: «تُشْقِحَ» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا پھل جو سرخ و زرد ہو جائے اور اس سے کھایا بھی جائے۔“
حدیث نمبر: 10601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ هُوَ الشَّرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى تُشَقِّحَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مزابنہ، محاقلہ، مخابرہ (پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرایہ پر دینا) اور پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔“
حدیث نمبر: 10602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَكِّيِّ - قَالَ زَيْدٌ: حَدَّثَنَا وَهُوَ عِنْدَ عَطَاءٍ جَالِسٌ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُشَقِّحَ " قَالَ: " وَالْإِشْقَاحُ أَنْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٌ " فَقَالَ زَيْدٌ: فَقُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَذْكُرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”«الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ)، «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ)، «الْمُخَابَرَةِ» (مخابرہ) اور کھجوروں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْإِشْقَاءُ» (اشقاہ) یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ و زرد ہو جائے یا اس سے کھایا جائے“۔ «الْمُحَاقَلَةُ» (محاقلہ) یہ ہے کہ کھیتی کو فروخت کیا جائے ماپے ہوئے معلوم کھانے یعنی گندم کے بدلے۔ زید نے کہا کہ میں نے عطاء سے کہا: کیا آپ نے جابر سے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کرتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں۔
حدیث نمبر: 10603
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھل کو اس کے عمدہ یا پک جانے سے پہلے فروخت کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 10604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، يَقُولُ: ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو ⦗٤٩٢⦘ مُسْلِمٍ، ثنا الْوَلِيدُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ "، قُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: حَتَّى يُحْزَرَ - وَفِي رِوَايَةِ آدَمَ - فَقَالَ رَجُلٌ: وَأِيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ؟، فَقَالَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ: حَتَّى يُحْزَرَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو البغزی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے «سَلَمٌ فِي النَّخْلِ» (درخت پر لگی کھجور میں بیعِ سَلَم) کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کھجور کو فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک کہ وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کر لیا جائے۔“ میں نے پوچھا: اس کا وزن کرنا کیا ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ کرنا ہے۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے کہ اس آدمی نے کہا: کس چیز کے ساتھ وزن کیا جائے؟ تو اس کے پہلو میں بیٹھے شخص نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ لگانا ہے۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے کہ اس آدمی نے کہا: کس چیز کے ساتھ وزن کیا جائے؟ تو اس کے پہلو میں بیٹھے شخص نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ لگانا ہے۔
حدیث نمبر: 10605
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللهِ بْنُ رَاشِدِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الْعَفَنُ الدُّمَانُ، أَصَابَهُ مَرَاقٌ، أَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، وَالْقُشَامُ شَيْءٌ يُصِيبُهُ حَتَّى لَا يَرْطَبَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ: " فَأَمَّا لَا فَلَا تَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ " كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا؛ لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَمْوَالِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَسْتَبِينَ الْأَحْمَرُ مِنَ الْأَصْفَرِ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: مُرَاضٌ بَدَلَ مَرَاقٍ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الدُّمَانُ: أَنْ تَنْشَقَّ النَّخْلَةُ أَوَّلَ مَا يَبْدُو قَلْبُهَا عَنْ عَفَنٍ وَسَوَادٍ، قَالَ: وَالْقُشَامُ أَنْ يُنْتَقَصَ ثَمَرُ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَصِيرَ بَلَحًا، وَالْمُرَاضُ: اسْمٌ لِأَنْوَاعِ الْأَمْرَاضِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں پھلوں کی بیع کرتے تھے، جب لوگ پھل توڑتے اور تقاضے کا وقت آتا تو پھر خریدنے والا یہ کہہ دیتا کہ پھلوں کو «عَضُّ الرُّمَّانِ» (یعنی پھل بننے سے پہلے کی بیماری) لگ گئی تھی، اس کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ گئی تھیں۔ «قُشَام» (ایسی بیماری جو کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے لگ جائے)۔ اس طرح کے حیلہ و حجت کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے جب جھگڑے زیادہ ہو گئے تو فرمایا: ”پھلوں کو فروخت نہ کرو جب تک ان میں پکنے کے آثار واضح نہ ہو جائیں“، گویا کہ آپ ﷺ ان کو مشورہ دے رہے تھے ان کے زیادہ جھگڑے ہونے کی وجہ سے۔
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «وَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عَضُّ الرُّمَّانِ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «وَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عَضُّ الرُّمَّانِ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔
حدیث نمبر: 10606
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " لَا يُبْتَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ "، قَالَ: وَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“
حدیث نمبر: 10607
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَبِيعُ الثَّمَرَ مِنْ غُلَامِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَيَقُولُ: " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ سَيِّدِهِ رِبًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو معبد، جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے پھل پکنے سے پہلے اپنے غلام کو فروخت کر دیتے اور فرماتے کہ سید اور غلام کے درمیان سود نہیں ہوتا۔