کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس باغ کے پھل کا بیان جس کی اصل (درخت یا زمین) فروخت کر دی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 10576
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو شخص کھجور کی گاجھ پر نر کی پیوند کاری کرنے کے بعد فروخت کرے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہو گا، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط قرار دے لے۔“
حدیث نمبر: 10577
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کھجور کی گاچھ پر نر کی پیوندکاری کرنے کے بعد فروخت کرے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“
حدیث نمبر: 10578
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " - وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ -: " فَثَمَرُهَا " ⦗٤٨٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کھجور کی گاچھ پر نر کی پیوندکاری کرنے کے بعد فروخت کرے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہو گا، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”اس کا پھل۔“
حدیث نمبر: 10579
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْفِرْيَابِيُّ يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا، ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کھجور کی گاجھ پر نر کی پیوندکاری کرنے کے بعد باغ کی اصل ہی فروخت کر دے تو پیوندکاری کرنے والے کا پھل ہو گا مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“
حدیث نمبر: 10580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ: أنا هِشَامٌ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُخْبِرُ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ: " أَيُّمَا نَخْلٍ بِيعَتْ، وَقَدْ أُبِّرَتْ، وَلَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ " سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ هَكَذَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِهِ، وَنَافِعٌ يَرْوِي حَدِيثَ النَّخْلِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ الْعَبْدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو کھجور فروخت کر دی گئی جس کی پیوند کاری کی گئی تھی، لیکن پھل کا تذکرہ نہ کیا گیا تو پھل پیوند کاری کرنے والے کے لیے ہے“، اسی طرح غلام اور کھیتی، ان تینوں کا نافع رحمہ اللہ نے نام لیا۔
(ب) نافع رحمہ اللہ کھجور والی حدیث نقل کرتے ہیں اور غلام والی حدیث سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
(ب) نافع رحمہ اللہ کھجور والی حدیث نقل کرتے ہیں اور غلام والی حدیث سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 10581
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِرَبِّهَا الْأَوَّلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " قَالَ: وَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَمْلُوكًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِرَبِّهِ الْأَوَّلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّخْلِ وَالْعَبْدِ جَمِيعًا، وَذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کھجور کی گابھ پر نر کی پیوند کاری کی، پھر اس نے اپنا باغ ہی فروخت کر دیا، تو اس کا پھل پہلے مالک کا ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ جس نے اپنے غلام کو فروخت کر دیا اور غلام کے پاس مال تھا، یہ مال پہلے مالک کا ہو گا، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔
(ج) سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے کھجور اور غلام دونوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ جس نے اپنے غلام کو فروخت کر دیا اور غلام کے پاس مال تھا، یہ مال پہلے مالک کا ہو گا، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔
(ج) سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے کھجور اور غلام دونوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔