أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ خُزَيْمَةَ وَسُئِلَ عَنْ بَيْعِ مَسْلُوخٍ بِشَاةٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ الشَّاةُ بِاللَّحْمِ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَمَنْ أَثْبَتَ سَمَاعَ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَدَّهُ مَوْصُولًا، وَمَنْ لَمْ يُثْبِتْهُ فَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ يُضَمُّ إِلَى مُرْسَلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ وَقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”بکری کو گوشت کے بدلے فروخت کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اور جو حسن بصری کا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت مانتا ہے وہ اسے موصول شمار کرتا ہے، اور جو اسے ثابت نہیں مانتا تو یہ عمدہ مرسل ہے جو سعید بن مسیب اور قاسم بن ابی بزہ کی مرسل روایات اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اور جو حسن بصری کا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت مانتا ہے وہ اسے موصول شمار کرتا ہے، اور جو اسے ثابت نہیں مانتا تو یہ عمدہ مرسل ہے جو سعید بن مسیب اور قاسم بن ابی بزہ کی مرسل روایات اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ مَرْوَانَ الْخَلَّالُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَلَطَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”گوشت کو حیوان کے بدلے خریدنے سے منع فرمایا ہے“۔
یہی صحیح ہے، اور یزید بن مروان خلال نے اسے مالک سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔
یہی صحیح ہے، اور یزید بن مروان خلال نے اسے مالک سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”گوشت کو حیوان کے بدلے خریدنے سے منع فرمایا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ جَزُورًا قَدْ جُزِرَتْ فَجُزِّئَتْ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ كُلُّ جُزْءٍ مِنْهَا بِعَنَاقٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ مِنْهَا جُزْءًا، فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: " إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَاعَ حَيٌّ بِمَيِّتٍ "، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ فَأُخْبِرْتُ عَنْهُ خَيْرًا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن ابی بزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، میں نے ایک اونٹ ذبح شدہ پایا جسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ہر حصہ بکری کے ایک بچے کے بدلے تھا، میں نے ایک حصہ خریدنے کا ارادہ کیا تو مدینہ کے ایک آدمی نے مجھے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”زندہ کو مردہ کے بدلے خریدنے سے منع فرمایا ہے“۔ کہتے ہیں: میں نے اس آدمی کے متعلق سوال کیا تو مجھے اس کے بارے میں بھلائی کی اطلاع ملی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَ بَيْعَ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حیوان کے گوشت کے بدلے بیع کرنا ناپسند کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " نُهِيَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ " قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَكَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنَ النَّاسِ يَنْهَوْنَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ، قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَكَانَ ذَلِكَ يُكْتَبُ فِي عُهُودِ الْعُمَّالِ فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَهِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ يَنْهَوْنَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد رحمہ اللہ، حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”حیوان کی بیع گوشت کے بدلے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“
ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جن لوگوں کو پایا وہ حیوان کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرماتے تھے۔ ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل کے زمانے میں عمال کے عہد ناموں میں یہ تحریر ہوتا تھا کہ وہ اس سے منع کرتے تھے۔
ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جن لوگوں کو پایا وہ حیوان کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرماتے تھے۔ ابوالزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل کے زمانے میں عمال کے عہد ناموں میں یہ تحریر ہوتا تھا کہ وہ اس سے منع کرتے تھے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: " كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْعُ اللَّحْمِ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن حصین رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ گوشت کو ایک بکری یا دو بکریوں کے بدلے خریدنا جاہلیت کا جوا تھا۔