السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع اللحم بالحيوان باب: گوشت کی زندہ جانور کے عوض بیع کا بیان۔
حدیث نمبر: 10572
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ جَزُورًا قَدْ جُزِرَتْ فَجُزِّئَتْ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ كُلُّ جُزْءٍ مِنْهَا بِعَنَاقٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ مِنْهَا جُزْءًا، فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: " إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَاعَ حَيٌّ بِمَيِّتٍ "، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ فَأُخْبِرْتُ عَنْهُ خَيْرًا.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن ابی بزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، میں نے ایک اونٹ ذبح شدہ پایا جسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ہر حصہ بکری کے ایک بچے کے بدلے تھا، میں نے ایک حصہ خریدنے کا ارادہ کیا تو مدینہ کے ایک آدمی نے مجھے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”زندہ کو مردہ کے بدلے خریدنے سے منع فرمایا ہے“۔ کہتے ہیں: میں نے اس آدمی کے متعلق سوال کیا تو مجھے اس کے بارے میں بھلائی کی اطلاع ملی۔