کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: (اس کا گوشت) خود کھانا ترک کر دینے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دینے کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ وَهُوَ الَّذِي يَلِيهِ " قَالَ: وَقُدِّمْنَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک تمام دنوں سے عظیم دن قربانی کا ہے، پھر قر کا دن اور وہ اس کے بعد والا دن ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ لائے گئے۔ وہ آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئے کہ ان میں سے کس سے آپ ﷺ ابتدا کرتے ہیں، جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑے تو آپ ﷺ نے آہستہ سے بات کی۔ میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ تو اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دل چاہے کاٹ لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10239
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَهُ مُسْلِمٌ الْمُصَبِّحُ، " أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ أَفَاضَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
مسلم مصبح فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ (بیت اللہ کی طرف) لوٹے اور انہوں نے اپنی قربانی کے گوشت سے کچھ نہیں کھایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10240
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حُصَيْنٌ، قَالَ: سُئِلَ مُجَاهِدٌ أَيَأْكُلُ الرَّجُلُ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ؟ قَالَ: " لَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا، إِنَّمَا قَوْلُهُ تَعَالَى {فَكُلُوا مِنْهَا} [الحج: ٢٨] مِثْلُ قَوْلِهِ {وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [المائدة: ٢]، فَمَنْ شَاءَ اصْطَادَ ".
حافظ ثناء اللہ
حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: کیا آدمی اپنی قربانی کا گوشت کھائے؟ انہوں نے فرمایا: اگر اپنی قربانی کا گوشت نہ بھی کھائے تو کوئی نقصان نہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾ [سورة الحج: 28] ”تم اس سے کھاؤ“ اس کے فرمان: ﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾ [سورة المائدة: 2] ”جب تم حلال ہو جاؤ تو شکار کرو“ کی طرح ہے، جو چاہے شکار کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10241
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1630»