کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان قربانیوں (ضحایا اور ہدایا) کا گوشت کھانے کا بیان جو قربانی کرنے والا بطورِ نفل کرے۔
حدیث نمبر: 10235
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا} [الحج: 28].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا﴾ ”پس تم ان میں سے خود بھی کھاؤ اور (دوسروں کو بھی) کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 28]
حدیث نمبر: 10235
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً وَأَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مقسم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حج کے موقع پر سو اونٹ نحر کیے۔ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے 50 اونٹ نحر کیے۔ اور باقی کے متعلق آپ ﷺ نے حکم دیا، ان کو نحر کر دیا گیا، پھر ہر قربانی سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا گیا، ایک ہنڈیا میں جمع کیے گئے۔ آپ ﷺ نے اس کا گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ آپ ﷺ سے کہا گیا کہ کیا آپ ﷺ نے ان تمام میں سے کھایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 10236
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ مِنْهَا بِيَدِهِ سِتِّينَ، وَأَمَرَ بِبَقِيَّتِهَا فَنُحِرَتْ، فَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِضْعَةً فَجُمِعَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَحَسَا مِنْ مَرَقِهَا " قِيلَ لِمُحَمَّدٍ: لِيَكُونَ قَدْ أَكَلَ مِنْ كُلِّهَا؟، قَالَ مُحَمَّدٌ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے قربانیوں کے گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کیا ہے“، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں فاقہ کشوں کی قوم کی وجہ سے منع کیا تھا جو قربانی کے وقت حاضر ہوتی تھی“، فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ بھی کرو“۔
حدیث نمبر: 10237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَهَيْتَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ نفلی ہدی روانہ کی اور فرمایا: کھاؤ اور اپنے ساتھیوں کو ایک تہائی کھلانا (ایک حصہ) اور ایک حصہ صدقہ کر دینا اور ایک حصہ میرے بھائی عتبہ کے گھر والوں کو دے دینا۔ (یعنی قربانی کے گوشت کے تین حصے کر کے تقسیم کیا جائے) [صحیح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 9702]
حدیث نمبر: 10238
وَرُوِّينَا عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: بَعَثَ مَعِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِهَدْيٍ تَطَوُّعًا، فَقَالَ لِي: " كُلْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ثُلُثًا، وَتَصَدَّقْ بِثُلُثٍ، وَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ أَخِي عُتْبَةَ ثُلُثَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن فرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک تمام دنوں سے افضل دن قربانی کا ہے، پھر اس کے بعد آنے والا یعنی دوسرا دن۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے چھ یا پانچ قربانیاں لائی گئیں۔ وہ قربانیاں آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئیں کہ ان میں سے کس سے آپ ﷺ ابتدا کرتے ہیں، جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑیں تو آپ ﷺ نے آہستہ سے بات کی۔ میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اپنے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ تو اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دل چاہے کاٹ لے۔“