السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ترك الأكل والتخلية بينها وبين الناس باب: (اس کا گوشت) خود کھانا ترک کر دینے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10241
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حُصَيْنٌ، قَالَ: سُئِلَ مُجَاهِدٌ أَيَأْكُلُ الرَّجُلُ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ؟ قَالَ: " لَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا، إِنَّمَا قَوْلُهُ تَعَالَى {فَكُلُوا مِنْهَا} [الحج: ٢٨] مِثْلُ قَوْلِهِ {وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [المائدة: ٢]، فَمَنْ شَاءَ اصْطَادَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قربانیوں پر کھڑے ہونے کا حکم دیا اور ”قربانیوں کے گوشت، کھالیں اور جھول مساکین میں تقسیم کردیے جائیں اور قصائی کو اجرت میں اس سے کوئی چیز نہ دی جائے۔“