أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ الْبَصْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَرَسَيْنِ لَنَا نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: " تَعَالَ حَتَّى أَحْكُمَ أَنَا وَأَنْتَ "، قَالَ: فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن قریر بصری، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں اور میرے ساتھی نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور ہم «ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ» نامی جگہ کی طرف دوڑے، وہاں ہم نے ایک ہرن کو مار ڈالا اور ہم دونوں محرم تھے، آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا جو ان کے پہلو میں تھا: ”آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔“ تو ان دونوں نے اس پر ایک بکری کا فیصلہ کیا اور باقی حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں: وہ (پہلو والے) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ مُحْرِمًا أَلْقَى جَوَالِقَ فَأَصَابَ يَرْبُوعًا فَقَتَلَهُ فَقَضَى فِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِجَفْرٍ أَوْ جَفْرَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک محرم نے ایک بورا پھینکا جو ایک جنگلی چوہے کو جا لگا اور اسے مار ڈالا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں ایک بکری کے بچے کا فیصلہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا} [المائدة: ٩٥] قَالَ: قُلْتُ لَهُ " فَمَنْ قَتَلَهُ خَطَأً أَيُغَرَّمُ؟، قَالَ: " نَعَمْ، يُعَظَّمُ بِذَلِكَ حُرُمَاتُ اللهِ وَمَضَتْ بِهِ السُّنَنُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا﴾ [سورة المائدة: 95] ”تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل مت کرو اور جس نے تم میں سے جان بوجھ کر قتل کیا۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: جس نے غلطی سے قتل کیا کیا اس پر چٹی ڈالی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کی جائے گی، اس کے بارے میں سنتیں اور طریقے گزر چکے ہیں۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّاسَ يُغَرِّمُونَ فِي الْخَطَأِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " يُحْكَمُ عَلَيْهِ فِي الْخَطَأِ وَالْعَمْدِ "، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " يُحْكَمُ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي الْخَطَأِ "، وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يَحْكُمُ عَلَيْهِ فِي الْخَطَأِ وَالْعَمْدِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: فِي قَوْلِهِ {عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَفَ} [المائدة: ٩٥] قَالَ: " عَمَّا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ "، {وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللهُ مِنْهُ} [المائدة: ٩٥] قَالَ: " وَمَنْ عَادَ فِي الْإِسْلَامِ فَيَنْتَقِمُ اللهُ مِنْهُ وَعَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْكَفَّارَةُ "، وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ " يُحْكَمُ عَلَيْهِ كُلَّمَا أَصَابَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ غلطی کی وجہ سے بھی چٹی بھرتے تھے۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلطی اور جان بوجھ کر عمل کرنے میں محرم کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محرم کے خلاف غلطی کی صورت میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
(د) حکم بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غلطی اور جان بوجھ کر بھی عمل کرنے کی صورت میں محرم کے خلاف فیصلہ کرتے تھے۔
(ح) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ﴾ [سورة المائدة: 95] ”جو پہلے ہوچکا (جاہلیت میں) اللہ نے معاف کردیا“ اور ﴿وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ﴾ [سورة المائدة: 95] ”اور جو کوئی پلٹا تو اللہ اس سے انتقام لے گا“ کے متعلق فرماتے ہیں: جو اسلام میں واپس آیا اللہ اس سے انتقام لے گا، اس پر کفارہ ہے۔
(خ) حسن، سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ وہ جب بھی شکار کرے گا اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلطی اور جان بوجھ کر عمل کرنے میں محرم کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محرم کے خلاف غلطی کی صورت میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
(د) حکم بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غلطی اور جان بوجھ کر بھی عمل کرنے کی صورت میں محرم کے خلاف فیصلہ کرتے تھے۔
(ح) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ﴾ [سورة المائدة: 95] ”جو پہلے ہوچکا (جاہلیت میں) اللہ نے معاف کردیا“ اور ﴿وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ﴾ [سورة المائدة: 95] ”اور جو کوئی پلٹا تو اللہ اس سے انتقام لے گا“ کے متعلق فرماتے ہیں: جو اسلام میں واپس آیا اللہ اس سے انتقام لے گا، اس پر کفارہ ہے۔
(خ) حسن، سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ وہ جب بھی شکار کرے گا اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔