السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: قتل المحرم الصيد عمدا أو خطأ باب: محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار مارنے کا بیان۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّاسَ يُغَرِّمُونَ فِي الْخَطَأِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " يُحْكَمُ عَلَيْهِ فِي الْخَطَأِ وَالْعَمْدِ "، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " يُحْكَمُ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي الْخَطَأِ "، وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يَحْكُمُ عَلَيْهِ فِي الْخَطَأِ وَالْعَمْدِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: فِي قَوْلِهِ {عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَفَ} [المائدة: ٩٥] قَالَ: " عَمَّا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ "، {وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللهُ مِنْهُ} [المائدة: ٩٥] قَالَ: " وَمَنْ عَادَ فِي الْإِسْلَامِ فَيَنْتَقِمُ اللهُ مِنْهُ وَعَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْكَفَّارَةُ "، وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ " يُحْكَمُ عَلَيْهِ كُلَّمَا أَصَابَ ".ابن جریج، عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ غلطی کی وجہ سے بھی چٹی بھرتے تھے۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلطی اور جان بوجھ کر عمل کرنے میں محرم کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محرم کے خلاف غلطی کی صورت میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
(د) حکم بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غلطی اور جان بوجھ کر بھی عمل کرنے کی صورت میں محرم کے خلاف فیصلہ کرتے تھے۔
(ح) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ﴾ [سورة المائدة: 95] ”جو پہلے ہوچکا (جاہلیت میں) اللہ نے معاف کردیا“ اور ﴿وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ﴾ [سورة المائدة: 95] ”اور جو کوئی پلٹا تو اللہ اس سے انتقام لے گا“ کے متعلق فرماتے ہیں: جو اسلام میں واپس آیا اللہ اس سے انتقام لے گا، اس پر کفارہ ہے۔
(خ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ غلطی کر لے تو ان کو سزا دی جائے گی۔