السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: قتل المحرم الصيد عمدا أو خطأ باب: محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9859
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا} [المائدة: ٩٥] قَالَ: قُلْتُ لَهُ " فَمَنْ قَتَلَهُ خَطَأً أَيُغَرَّمُ؟، قَالَ: " نَعَمْ، يُعَظَّمُ بِذَلِكَ حُرُمَاتُ اللهِ وَمَضَتْ بِهِ السُّنَنُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا﴾ [سورة المائدة: 95] ”تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل مت کرو اور جس نے تم میں سے جان بوجھ کر قتل کیا۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: جس نے غلطی سے قتل کیا کیا اس پر چٹی ڈالی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کی جائے گی، اس کے بارے میں سنتیں اور طریقے گزر چکے ہیں۔