السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: قتل المحرم الصيد عمدا أو خطأ باب: محرم کا جان بوجھ کر یا غلطی سے شکار مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9857
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ الْبَصْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَرَسَيْنِ لَنَا نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: " تَعَالَ حَتَّى أَحْكُمَ أَنَا وَأَنْتَ "، قَالَ: فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن قریر بصری، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں اور میرے ساتھی نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور ہم «ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ» نامی جگہ تک آئے، وہاں ہم نے ہرن کو پایا اور ہم دونوں محرم تھے، آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا جو ان کے پہلو میں تھا: ”آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔“ تو انہوں نے ایک تیسرے پر فیصلہ کیا، وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔