کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9830
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: 125] الْآيَةَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْمَثَابَةُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْمَوْضِعُ يَثُوبُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَيَؤُبُونَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ بَعْدَ الذَّهَابِ عَنْهُ، وَقَدْ يُقَالُ: ثَابَ إِلَيْهِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ ”اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا۔“ [سورة البقرة: 125] (آخر آیت تک)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عرب کے کلام میں لفظ «الْمَثَابَةُ» سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ بار بار لوٹ کر آتے ہیں اور وہاں سے جانے کے بعد پھر لوٹتے ہیں، اور یوں بھی کہا جاتا ہے: «ثَابَ إِلَيْهِ» یعنی وہ اس جگہ مجتمع ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9830
حدیث نمبر: 9830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] قَالَ: " يَثُوبُونَ إِلَيْهِ، وَيَذْهَبُونَ وَيَرْجِعُونَ لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حجاج مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ [سورة البقرة: 125] کے بارے میں منقول ہے: ”اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے لوٹنے کی جگہ (یا ثواب کی جگہ) اور امن کی جگہ بنایا۔“ فرماتے ہیں: وہ اس سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن دنیوی مقصد حاصل نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9830
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن جرير في تفسيره 1/ 580»
حدیث نمبر: 9831
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {مَثَابَةً لِلنَّاسِ} [البقرة: ١٢٥] يَقُولُ: " لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا أَبَدًا "، {وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] يَقُولُ: " لَا يَخَافُ مَنْ دَخَلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿مَثَابَةً لِّلنَّاسِ﴾ [سورة البقرة: 125] سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے (دنیاوی) مقاصد حاصل نہیں کرتے، اور «أَمْنًا» سے مراد یہ ہے کہ جو شہر مکہ میں داخل ہو جاتا ہے، وہ خوف نہیں کھاتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9831
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9832
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ} [الحج: ٢٧] قَالَ: لَمَّا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمُ اتَّخَذَ بَيْتًا وَأَمَرَكُمْ أَنْ تَحُجُّوهُ، فَاسْتَجَابَ لَهُ مَا سَمِعَهُ مِنْ حَجَرٍ، أَوْ شَجَرٍ، أَوْ أَكَمَةٍ، أَوْ تُرَابٍ، أَوْ شَيْءٍ فَقَالُوا: لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ﴾ [سورة الحج: 27] کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے رب نے گھر بنوایا ہے اور وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کا حج کرو۔“ ان کی آواز یا دعوت کو ہر پتھر، درخت، گھاس، مٹی اور ہر چیز جس نے بھی سنا، اسے قبول کیا۔ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”اے اللہ! ہم حاضر ہیں، اے اللہ! ہم حاضر ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9832
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ ابن عساكر في تاريخه 6/ 206»
حدیث نمبر: 9833
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ، قَالَ: " رَبِّ قَدْ فَرَغْتُ "، فَقَالَ: " أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ "، قَالَ: " رَبِّ وَمَا يَبْلُغُ صَوْتِي؟ "، قَالَ: " أَذِّنْ وَعَلَيَّ الْبَلَاغُ "، قَالَ: " رَبِّ كَيْفَ أَقُولُ؟ " قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ حَجُّ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ "، فَسَمِعَهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَجِيئُونَ مِنْ أَقْصَى الْأَرْضِ يُلَبُّونَ؟.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کو بنانے سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: ”اے میرے رب! میں فارغ ہو گیا ہوں“، تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ”لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔“ کہنے لگے: ”اے میرے رب! میری آواز نہ پہنچ سکے گی۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اعلان تم کرو، آواز میں پہنچا دوں گا۔“ کہنے لگے: ”اے میرے رب! میں کیا کہوں؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کہو: اے لوگو! اللہ نے تمہارے اوپر بیت اللہ کے حج کو فرض کر دیا ہے۔“ ان کی آواز کو آسمان و زمین کے درمیان رہنے والوں نے سن لیا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ زمین کے کناروں سے تلبیہ کہتے ہوئے آتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9833
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الحاكم 2/ 421»
حدیث نمبر: 9834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٢٨٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُعَاذٌ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ (ك ف ر) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: " أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَدِ انْحَدَرَ مِنَ الْوَادِي يُلَبِّي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر) لکھا ہوگا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ میں نے یہ بات آپ ﷺ سے اس طرح نہیں سنی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہرحال سیدنا ابراہیم علیہ السلام تو تم اپنے ساتھی کی جانب دیکھو اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والے، سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کو کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی مضبوط رسی سے لگام دی ہوئی ہے، گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی سے نیچے اتر رہے ہیں اور تلبیہ پکار رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9834
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5596»
حدیث نمبر: 9835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْبَكْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ مَوْضِعُ الْبَيْتِ فِي زَمَنِ آدَمَ شِبْرًا، أَوْ أَكْثَرَ عِلْمًا، فَكَانَتِ الْمَلَائِكَةُ تَحُجُّهُ قَبْلَ آدَمَ، ثُمَّ حَجَّ آدَمُ فَاسْتَقْبَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: يَا آدَمُ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: حَجَجْتُ الْبَيْتَ، فَقَالُوا: قَدْ حَجَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ قَبْلَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام کے دور میں بیت اللہ کی جگہ ایک بالشت یا زیادہ تھی بطور علامت و نشانی، فرشتے آدم علیہ السلام سے پہلے اس کا حج کرتے تھے۔ پھر آدم علیہ السلام نے اس کا حج کیا تو فرشتے آدم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے آدم! آپ کہاں سے آئے؟ فرمانے لگے: میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے، انہوں نے کہا: آپ سے پہلے فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9835
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه المولف في الشعب 3986»
حدیث نمبر: 9836
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: " حَجَّ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَقِيَتْهُ الْمَلَائِكَةُ، فَقَالُوا: بَرَّ نُسُكُكَ آدَمُ لَقَدْ حَجَجْنَا قَبْلَكَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ یا ان کے علاوہ کوئی بیان کرتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا حج کیا، ان سے فرشتوں نے ملاقات کی اور کہا کہ آدم (علیہ السلام) کا حج قبول کیا گیا، حالانکہ ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9836
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الشافعي 532»
حدیث نمبر: 9837
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَقَدْ سَلَكَ فَجَّ الرَّوْحَاءِ سَبْعُونَ نَبِيًّا حُجَّاجًا عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، وَلَقَدْ صَلَّى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُونَ نَبِيًّا ".
حافظ ثناء اللہ
مقسم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ستر انبیاء علیہم السلام فجِ روحا کے راستے سے حج کے لیے چلے، انہوں نے روئی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور مسجدِ خیف میں ستر انبیاء علیہم السلام نے نماز ادا کی۔“
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر نبی نے بیت اللہ کا حج کیا، سوائے ہود اور صالح علیہما السلام کے، البتہ نوح علیہ السلام نے بھی بیت اللہ کا حج کیا تھا جب زمین پر طوفانِ نوح (یعنی سیلاب) نہیں آیا تھا، پھر جب زمین پر سیلاب آیا تو بیت اللہ کو بھی نقصان ہوا اور بیت اللہ ایک سرخ ٹیلے پر تھا۔ اللہ رب العزت نے سیدنا ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تو وہ اپنی قوم کے معاملے میں مصروف ہو گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی لیکن وہ حج نہ کر سکے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جگہ عطا فرمائی تو انہوں نے حج کیا، پھر ہر نبی نے اس کا حج کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9837
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/ 653»
حدیث نمبر: 9838
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَوْسٍ أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَجَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي خَمْسِينَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطَوَانِيَّتَانِ وَهُوَ يُلَبِّي: " لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ تَعَبُّدًا وَرِقًّا، لَبَّيْكَ أَنَا عَبْدُكَ أَنَا لَدَيْكَ لَدَيْكَ يَا كَشَّافَ الْكُرَبِ، قَالَ: فَجَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ " ⦗٢٨٩⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يُحْكَ لَنَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ النَّبِيِّينَ وَلَا الْأُمَمِ الْخَالِينَ أَنَّهُ جَاءَ الْبَيْتَ أَحَدٌ قَطُّ إِلَّا حَرَامًا، وَلَمْ يَدْخُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَلِمْنَاهُ إِلَّا حَرَامًا إِلَّا فِي حَرْبِ الْفَتْحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے پچاس ہزار آدمیوں میں حج کیا، ان کے اوپر دو روئی کی چادریں تھیں اور وہ تلبیہ پکار رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا، لَبَّيْكَ، يَا كَاشِفَ الْكُرُبَاتِ» ”اے اللہ! حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں عبادت کے اعتبار سے، اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے پاس ہوں، اے مصائب کو دور ہٹانے والے۔“ اس کا پہاڑوں نے بھی جواب دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی نبی یا امتی سے یہ حکایت نہیں کی گئی، جو بھی بیت اللہ میں آیا احرام کی حالت میں آیا اور رسول اللہ ﷺ جب بھی مکہ میں داخل ہوئے تو احرام کی حالت میں داخل ہوئے، سوائے فتح مکہ کے موقع پر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9838
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
حدیث نمبر: 9839
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا يَدْخُلُ مَكَّةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهَا وَلَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا إِلَّا بِإِحْرَامٍ " وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَاللهِ مَا دَخَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کا رہنے والا یا کوئی دوسرا مکہ میں احرام کی حالت میں داخل ہوتا تھا۔
(ب) عطاء ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صرف حج یا عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9839
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»