السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: خطأ الناس يوم عرفة باب: یومِ عرفہ (کے تعین) میں لوگوں سے غلطی ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9829
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ حَجَّ أَوَّلَ مَا حَجَّ، فَأَخْطَأَ النَّاسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ أَيُجْزِئُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ أَيْ لَعَمْرِي إِنَّهَا لَتُجْزِيءُ عَنْهُ، ⦗٢٨٧⦘ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ " - وَأُرَاهُ قَالَ -: " وَعَرَفَةُ يَوْمَ تُعَرِّفُونَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: ایک شخص نے حج کیا، پھر «يَوْمَ النَّحْرِ» یعنی قربانی کے دن کو بھول گیا، کیا ان سے کفایت کر جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: میری عمر کی قسم! اس سے کفایت کر جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عید الفطر کا دن وہ ہے جس دن امام افطار کرے اور تمہاری عید الاضحی کا دن جب تم قربانی کرو۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور عرفہ کا وہ دن ہے جب لوگ قیام کریں۔“