کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان کا بیان جنہوں نے آدھی رات کے بعد اس کی رمی کو جائز قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَامَتْ تُصَلِّي فَصَلَّتْ ثُمَّ، قَالَتْ: " يَا بُنِيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: " يَا بُنِيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: " فَارْتَحِلُوا " فَارْتَحَلْنَا فَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: " كَلَّا يَا بُنِيَّ إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ جمع کی رات مزدلفہ والے گھر کے پاس اتریں تو نماز پڑھنے لگیں، انہوں نے نماز پڑھی تو کہنے لگیں: اے بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ایک گھڑی نماز پڑھی، پھر پوچھا: اے بیٹے! کیا چاند غائب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! کہنے لگیں: پھر چلو، چنانچہ ہم چلے حتیٰ کہ جمرہ کو مارا۔ پھر وہ واپس آئیں اور صبح کی نماز اپنے گھر میں آ کر پڑھی۔ میں نے کہا: میرا خیال ہے ہم نے اندھیرے میں رمی کی ہے! کہنے لگیں: نہیں! ”رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو اجازت دی ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9568
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 15959»
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ وَهِيَ بِالْمُزْدَلِفَةِ: " هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ، قَالَتْ: " يَا بُنِيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: " كَلَّا إنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "، ⦗٢١٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مزدلفہ میں تھیں تو انہوں نے کہا: کیا چاند غائب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی، پھر کہا: کیا چاند غائب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! کہتی ہیں: میرے ساتھ سوار ہو۔ ہم سوار ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی کی۔ پھر گھر آکر نماز پڑھی، میں نے کہا: کیا ہم نے جلدی نہیں کر لی! کہتی ہیں: نہیں، نبی ﷺ نے ”عورتوں کو اجازت دی ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9569
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1291»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ قُلْتُ: إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، قَالَتْ: " إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے کسی نے اسماء رضی اللہ عنہا کے بارے میں خبر دی کہ انہوں نے جمرہ کو مارا تو میں نے کہا: ہم نے تو رات کو ہی رمی کر لی ہے، کہنے لگیں: ہم یہ کام نبی ﷺ کے زمانے میں بھی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9570
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود 1943»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ، وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي يَكُونُ عِنْدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نحر کی رات بھیجا، انہوں نے فجر سے پہلے رمی کی، پھر لوٹ گئیں اور یہ وہ دن تھا جس دن نبی ﷺ ان کے پاس ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9571
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابوداود 1942۔ حاكم 1/ 641»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9572
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارِ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " دَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَهَا أَنْ تُعَجِّلَ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَأْتِيَ مَكَّةَ فَتُصَلِّيَ بِهَا الصُّبْحَ، وَكَانَ يَوْمَهَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَهُ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنَ الْمَشْرِقِيِّينَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. كَذَا رَوَاهُ فِي الْإِمْلَاءِ، وَرَوَاهُ فِي الْمُخْتَصَرِ الْكَبِيرِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " حَتَّى تَرْمِيَ الْجَمْرَةَ وَتُوَافِيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ وَكَانَ يَوْمَهَا، فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَهُ " أَوْ " تُوَافِيَهُ "، وَقَالَ فِي الْإِسْنَادِ الثَّانِي: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ فَذَكَرَهُ وَكَأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ أَخَذَهُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس نحر والے دن گئے تو انہیں حکم دیا کہ وہ جلدی جمع سے لوٹ جائیں ”حتیٰ کہ مکہ میں جا کر صبح کی نماز ادا کریں“ اور وہ ان کا دن تھا تو آپ ﷺ نے پسند کیا کہ یہ آپ کے ساتھ ملیں۔
(ب) ایک دوسری سند سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسی کی مثل روایت بیان کرتی ہیں: اسی طرح اس کو انہوں نے املاء میں روایت کیا ہے اور المختصر الکبیر میں دونوں سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے مگر یہ کہ انہوں نے فرمایا: ”حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور وہ مکہ میں صبح کی نماز کے وقت ان کے ساتھ ملیں“ اور وہ ان (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کا دن تھا، پس آپ ﷺ نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ملیں۔
اور دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9573
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ شافعي 1701»
حَدَّثَنَاهُ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ ”صبح کی نماز یوم نحر کو مکہ میں ادا کریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9574
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ احمد 6/ 391»