حدیث نمبر: 9568
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَامَتْ تُصَلِّي فَصَلَّتْ ثُمَّ، قَالَتْ: " يَا بُنِيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: " يَا بُنِيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: " فَارْتَحِلُوا " فَارْتَحَلْنَا فَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: " كَلَّا يَا بُنِيَّ إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ جمع کی رات مزدلفہ والے گھر کے پاس اتریں تو نماز پڑھنے لگیں، انہوں نے نماز پڑھی تو کہنے لگیں: اے بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ایک گھڑی نماز پڑھی، پھر پوچھا: اے بیٹے! کیا چاند غائب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! کہنے لگیں: پھر چلو، چنانچہ ہم چلے حتیٰ کہ جمرہ کو مارا۔ پھر وہ واپس آئیں اور صبح کی نماز اپنے گھر میں آ کر پڑھی۔ میں نے کہا: میرا خیال ہے ہم نے اندھیرے میں رمی کی ہے! کہنے لگیں: نہیں! ”رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو اجازت دی ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9568
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 15959»