حدیث نمبر: 9569
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ وَهِيَ بِالْمُزْدَلِفَةِ: " هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ، قَالَتْ: " يَا بُنِيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: " كَلَّا إنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "، ⦗٢١٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مزدلفہ میں تھیں تو انہوں نے کہا: کیا چاند غائب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی، پھر کہا: کیا چاند غائب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! کہتی ہیں: میرے ساتھ سوار ہو۔ ہم سوار ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی کی۔ پھر گھر آکر نماز پڑھی، میں نے کہا: کیا ہم نے جلدی نہیں کر لی! کہتی ہیں: نہیں، نبی ﷺ نے ”عورتوں کو اجازت دی ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9569
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1291»