کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: طواف کے سات سات چکروں (اسابیع) کو آپس میں ملانے (قران) کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا؛ ثُمَّ طََافَ سَبْعًا لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ قُوَّتَهُ " وَفِي رِوَايَةِ الْمَعْمَرِيِّ: طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا؛ لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ، أَوْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ وَقَدْ، قَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْمَتْنِ: طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا، وَقِيلَ: أَرَادَ بِهِ طَافَ سَبْعًا بِالْبَيْتِ وَسَبْعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَا يَكُونُ مَدْخَلُهُ هَذَا الْبَابَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سات طواف کیے، پھر دوبارہ سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ آپ کی قوت دیکھیں۔
(ب) معمری کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے سات چکر لگائے، پھر سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ دیکھیں یا آپ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائیں۔ دوسروں نے اس متن میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: «طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا» ”سات چکر لگائے اور سات چکر لگائے۔“
(ج) ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور سات چکر صفا مروہ کے درمیان لگائے، تو اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9433
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 1/ 255۔ طبراني كبير 21827»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ بِمَكَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَسْبَاعٍ جَمِيعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ فَصَلَّى خَلْفَهُ سِتَّ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ يَمِينًا وَشِمَالًا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " أَرَادَ أَنْ يُعَلِّمَنَا " خَالَفَهُ الصَّغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَنَابٍ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے تین مرتبہ سات سات چکر اکٹھے ہی لگائے، پھر مقام پر آ کر اس کے پیچھے چھ رکعتیں ادا کیں، ہر دو رکعتوں میں دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ﷺ ہمیں سکھانا چاہتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9434
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ضعفاء للعقيلي 3/66»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَتْمَمْنَا دَخَلْنَا فِي الثَّانِي، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا قَدْ أَتْمَمْنَا، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَوْهَمْ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرِنَ " لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ وَقَدْ رَخَّصَ فِي ذَلِكَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَائِشَةُ، وَكَرِهَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا، جب ایک مکمل ہو گیا تو دوسرا شروع کر لیا تو ہم نے ان کو کہا کہ ہم نے طواف پورا کر لیا ہے تو کہنے لگے: مجھے کوئی شک نہیں ہے، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو طواف اکٹھے کرتے دیکھا ہے تو میں بھی ایسا کرنا پسند کرتا ہوں۔
یہ روایت قوی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9435
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ انظر قبله»