السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: القران بين الأسابيع باب: طواف کے سات سات چکروں (اسابیع) کو آپس میں ملانے (قران) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا؛ ثُمَّ طََافَ سَبْعًا لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ قُوَّتَهُ " وَفِي رِوَايَةِ الْمَعْمَرِيِّ: طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا؛ لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ، أَوْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ وَقَدْ، قَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْمَتْنِ: طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا، وَقِيلَ: أَرَادَ بِهِ طَافَ سَبْعًا بِالْبَيْتِ وَسَبْعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَا يَكُونُ مَدْخَلُهُ هَذَا الْبَابَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سات طواف کیے، پھر دوبارہ سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ آپ کی قوت دیکھیں۔
(ب) معمر کی روایت میں ہے کہ سات چکر لگائے گا، پھر سات چکر لگائے گا؛ کیونکہ یہ زیادہ پسندیدہ ہے کہ اسے لوگ دیکھیں یا وہ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائے۔ اس کے علاوہ یہ متن بھی ہے: «طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا» ”سات بار طواف کیا اور سات بار سعی کی۔“
(ج) ایک قول ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے گا، پھر سات چکر صفا مروہ میں لگائے گا۔ اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔