❮
❯
حدیث نمبر: 9433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا؛ ثُمَّ طََافَ سَبْعًا لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ قُوَّتَهُ " وَفِي رِوَايَةِ الْمَعْمَرِيِّ: طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا؛ لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ، أَوْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ وَقَدْ، قَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْمَتْنِ: طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا، وَقِيلَ: أَرَادَ بِهِ طَافَ سَبْعًا بِالْبَيْتِ وَسَبْعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَا يَكُونُ مَدْخَلُهُ هَذَا الْبَابَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سات طواف کیے، پھر دوبارہ سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ آپ کی قوت دیکھیں۔
(ب) معمری کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے سات چکر لگائے، پھر سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ دیکھیں یا آپ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائیں۔ دوسروں نے اس متن میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: «طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا» ”سات چکر لگائے اور سات چکر لگائے۔“
(ج) ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور سات چکر صفا مروہ کے درمیان لگائے، تو اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9433
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 1/ 255۔ طبراني كبير 21827»