کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب تک مکہ میں رہے بیت اللہ کا کثرت سے طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9429
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا يُحْصِيهِ كُتِبَتْ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٌ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ سَيِّئَةٌ، وَرُفِعَتْ لَهُ بِهِ دَرَجَةٌ وَكَانَ لَهُ عِدْلُ رَقَبَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے بیت اللہ کا طواف کیا، سات چکر گن کر لگائے، اس کے لیے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھی جائے گی اور اس کا گناہ مٹایا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جائے گا اور ایک گردن آزاد کرانے کے برابر ثواب ہوگا۔“
حدیث نمبر: 9430
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ طَافَ سَبْعًا وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَعِتَاقِ رَقَبَةٍ " لَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ أَبَاهُ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَطَاءٍ، فَبَعْضُهُمْ ذَكَرَهُ عَنْهُ، وَبَعْضُهُمْ لَمْ يَذْكُرْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو ایک غلام آزاد کرانے کے برابر یہ عمل ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 9431
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا لِي أَرَاكَ لَا تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا؟، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا " قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ طَافَ سُبُوعًا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَهُ بِعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ رَفَعَ قَدَمًا وَوَضَعَ أُخْرَى كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَحَطَّ لَهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً " وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمَا جَمِيعًا سَمِعَاهُ الْأَبُ وَالِابْنُ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ صرف ان دو رکنوں کو چھوتے ہیں اور ان کے علاوہ کو نہیں؟ کہنے لگے: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”ان دونوں کو چھونا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ کہتے ہیں اور میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں تو اس کے لیے گردن آزاد کرانے کے برابر ثواب ہے اور جس نے ایک پاؤں اٹھایا اور دوسرا رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور گناہ مٹائے گا اور درجہ بلند کرے گا۔“
حدیث نمبر: 9432
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗١٧٩⦘ عَمْرٍو قِرَاءَةً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا أَعْرِفَنَّ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ مَا مَنَعْتُمْ طَائِفًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے بنی عبدِ مناف! میں یہ نہ سنوں کہ تم اس گھر کا طواف کرنے سے کسی کو بھی منع کرتے ہو، خواہ دن ہو یا رات۔“