کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان خطبوں کا بیان جنہیں امام کے لیے حج میں دینا مستحب ہے، جن میں سے پہلا ذوالحجہ کی ساتویں تاریخ کو مکہ میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُلُودِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ خَطَبَ النَّاسَ، فَأَخْبَرَهُمْ بِمَنَاسِكِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یومِ ترویہ سے پہلے لوگوں کو خطبہ دیا اور مناسکِ حج بیان فرمائے۔
حدیث نمبر: 9437
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا أَبُو حُمَةَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرَجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِلتَّكْبِيرِ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ أَقْرَأُ عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ، وَعَنْ نَحْرِهِمْ، وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا ابْنُ خُثَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب واپس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حج پر بھیجا۔ ہم بھی ان کے ساتھ گئے حتیٰ کہ جب عرج پہنچے تو صبح کی اقامت کہی گئی۔ جب تکبیرِ تحریمہ کہنے کے لیے سیدھے ہوئے تو اپنے پیچھے سے آواز سنی۔ آپ تکبیر سے رک گئے تو انہوں نے کہا: ”یہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی «الْجَدْعَاءُ» ”جدعاء“ کی آواز ہے، لگتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی حج کا ارادہ ہو گیا ہے۔ شاید کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔“ جب دیکھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر سوار تھے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”امیر بن کر آئے ہو یا قاصد؟“ کہنے لگے: ”بلکہ قاصد بن کر آیا ہوں۔ مجھے رسول اللہ ﷺ نے «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ دے کر بھیجا ہے، میں حج کو مواقف میں اسے لوگوں کے سامنے پڑھوں۔“ جب ہم مکہ آئے تو ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے ایک دن پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کو مناسکِ حج کے بارے میں بتایا حتیٰ کہ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ساری «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھ دی۔ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ جب یومِ عرفہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور لوگوں کو ان کے مناسک بتائے، پھر جب فارغ ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور مکمل «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھی۔ پھر جب قربانی کا دن تھا تو ہم واپس لوٹے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا، ان کو ان کے لوٹنے، قربانی کرنے اور مناسک کے بارے میں بتایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں پر «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا۔ جب واپس لوٹنے کا دن تھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کو بتایا کہ وہ کیسے لوٹیں اور کیسے رمی کریں، ان کو ان کے مناسک بتائے۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں پر «بَرَاءَةٌ» ”براءت“ پڑھی حتیٰ کہ اس کو ختم کیا۔