کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عمرہ کرنے والا تلبیہ پڑھنا بند نہ کرے یہاں تک کہ وہ طواف شروع کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُلَبِّي فِي الْعُمْرَةِ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ثُمَّ يَقْطَعَ "، قَالَ: " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُلَبِّي فِي الْعُمْرَةِ حَتَّى إِذَا رَأَى بُيُوتَ مَكَّةَ تَرَكَ التَّلْبِيَةَ وَأَقْبَلَ عَلَى التَّكْبِيرِ، وَالذِّكْرِ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عمرہ میں تلبیہ کہتے تھے، حتیٰ کہ حجر اسود کا استلام فرماتے، پھر چھوڑ دیتے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عمرہ میں تلبیہ کہتے، حتیٰ کہ جب مکہ کے گھر دیکھتے تو تلبیہ چھوڑ دیتے اور تکبیر اور ذکر شروع کر دیتے، حتیٰ کہ حجر اسود کو چھوتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ مَتَى يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ؟ فقال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ "، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " حَتَّى يَمْسَحَ الْحَجَرَ " قُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک کہتے ہیں کہ عطاء سے پوچھا گیا کہ عمرہ کرنے والا تلبیہ کب چھوڑے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب حرم میں داخل ہو اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب حجر اسود کو چھوئے، تو میں نے کہا: اے ابو محمد! ان دونوں میں سے آپ کو کون سی بات پسند ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَفْتَتِحَ الطَّوَافَ مُسْتَلِمًا، أَوْ غَيْرَ مُسْتَلِمٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَهَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ فَرَفَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا جب تک طواف شروع نہ کرے، خواہ (حجر اسود کا) استلام کرے یا نہ کرے، اس وقت تک تلبیہ کہتا رہے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا شَاذَانُ، ثنا زُهَيْرٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُلَبِّي فِي الْعُمْرَةِ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ، وَفِي الْحَجِّ حَتَّى يَرْمِيَ الْجَمْرَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عمرہ میں جب تک حجر اسود کو نہ چھوتے تلبیہ کہتے رہتے اور حج میں رمی جمار تک۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى فِي عُمْرَةٍ حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ " وَلَكِنَّا هِبْنَا رِوَايَتَهُ؛ لَأَنَا وَجَدْنَا حُفَّاظَ الْمَكِّيِّينَ يَقِفُونَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْخُ: رَفْعُهُ خَطَأٌ، وَكَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا كَثِيرَ الْوَهْمِ وَخَاصَّةً إِذَا رَوَى عَنْ عَطَاءٍ فَيُخْطِيءُ كَثِيرًا، ضَعَّفَهُ أَهْلُ النَّقْلِ مَعَ كِبَرِ مَحَلِّهِ فِي الْفِقْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَطَاءٍ مَرْفُوعًا، وَإِسْنَادُهُ أَضْعَفُ مِمَّا ذَكَرْنَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عمرہ میں تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ حجر اسود کو چھوا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن ہم نے اس (ابن ابی لیلیٰ) کی روایت سے احتیاط کی، کیوں کہ ہم نے مکہ کے حفاظ کو اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف بیان کرتے پایا۔
اسے مرفوع بیان کرنا غلطی ہے، یہ ابن ابی لیلیٰ بہت وہم کا شکار ہوتے تھے، خاص طور پر جب عطاء سے روایت کرتے تو بہت غلطیاں کرتے، فقہ میں ان کے بلند مقام کے باوجود محدثین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ روایت مثنیٰ بن صباح کے واسطے سے عطاء سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس کی سند ہماری ذکر کردہ سند سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن ہم نے اس (ابن ابی لیلیٰ) کی روایت سے احتیاط کی، کیوں کہ ہم نے مکہ کے حفاظ کو اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف بیان کرتے پایا۔
اسے مرفوع بیان کرنا غلطی ہے، یہ ابن ابی لیلیٰ بہت وہم کا شکار ہوتے تھے، خاص طور پر جب عطاء سے روایت کرتے تو بہت غلطیاں کرتے، فقہ میں ان کے بلند مقام کے باوجود محدثین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ روایت مثنیٰ بن صباح کے واسطے سے عطاء سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس کی سند ہماری ذکر کردہ سند سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصٌ هُوَ ابْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ "، وَقَدْ قِيلَ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ مَرْفُوعًا " أَنَّهُ خَرَجَ مَعَهُ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ فَمَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ " وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی ﷺ نے تین عمرے کیے، ہر مرتبہ تلبیہ اس وقت بند کرتے تھے جب حجر اسود کو چھوتے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت حجاج سے، عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہے۔ اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”وہ آپ ﷺ کے کسی عمرے میں آپ کے ساتھ نکلے تو آپ ﷺ نے تلبیہ بند نہ کیا حتیٰ کہ حجر اسود کو چھو لیا“، اور اس کی سند ضعیف ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت حجاج سے، عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہے۔ اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”وہ آپ ﷺ کے کسی عمرے میں آپ کے ساتھ نکلے تو آپ ﷺ نے تلبیہ بند نہ کیا حتیٰ کہ حجر اسود کو چھو لیا“، اور اس کی سند ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَحْرُ بْنُ مُرَّارِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَمَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ " هَذَا إِسْنَادٌ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی عمرے کے لیے نکلے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلا، تو آپ ﷺ نے اس وقت تک تلبیہ بند نہ کیا جب تک حجرِ اسود کو نہ چھو لیا۔
یہ سند قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔
یہ سند قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔