السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يقطع المعتمر التلبية حتى يفتتح الطواف باب: عمرہ کرنے والا تلبیہ پڑھنا بند نہ کرے یہاں تک کہ وہ طواف شروع کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى فِي عُمْرَةٍ حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ " وَلَكِنَّا هِبْنَا رِوَايَتَهُ؛ لَأَنَا وَجَدْنَا حُفَّاظَ الْمَكِّيِّينَ يَقِفُونَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْخُ: رَفْعُهُ خَطَأٌ، وَكَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا كَثِيرَ الْوَهْمِ وَخَاصَّةً إِذَا رَوَى عَنْ عَطَاءٍ فَيُخْطِيءُ كَثِيرًا، ضَعَّفَهُ أَهْلُ النَّقْلِ مَعَ كِبَرِ مَحَلِّهِ فِي الْفِقْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَطَاءٍ مَرْفُوعًا، وَإِسْنَادُهُ أَضْعَفُ مِمَّا ذَكَرْنَا.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عمرہ میں تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ حجر اسود کو چھوا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن ہم نے اس (ابن ابی لیلیٰ) کی روایت سے احتیاط کی، کیوں کہ ہم نے مکہ کے حفاظ کو اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف بیان کرتے پایا۔
اسے مرفوع بیان کرنا غلطی ہے، یہ ابن ابی لیلیٰ بہت وہم کا شکار ہوتے تھے، خاص طور پر جب عطاء سے روایت کرتے تو بہت غلطیاں کرتے، فقہ میں ان کے بلند مقام کے باوجود محدثین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ روایت مثنیٰ بن صباح کے واسطے سے عطاء سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس کی سند ہماری ذکر کردہ سند سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔