کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حجِ افراد اور حجِ قران کرنے والوں کے لیے عرفہ کے بعد ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہے، پس اگر انہوں نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کر لی تھی تو وہ عرفہ کے بعد صرف بیت اللہ کے طواف پر اکتفا کریں اور حلال ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 9415
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " " قَالَتْ: فَقَدِمْتُ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ " " قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: " " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ " " قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَمَا رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ⦗١٧٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے۔ ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہے اور پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے۔“ کہتی ہیں کہ میں آئی تو حائضہ ہو گئی۔ میں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کیا اور اس کا شکوہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے، کنگھی کر لے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو چھوڑ دے۔“ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم نے حج کر لیا تو آپ ﷺ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا، میں نے وہاں سے عمرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرہ کی جگہ ہے۔“ کہتی ہیں: جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انہوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا پھر حلال ہو گئے۔ پھر منیٰ سے واپس آ کر حج کے لیے طواف کیا اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
حدیث نمبر: 9416
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ كَذَلِكَ وَزَادَا: وَأَمَّا الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا، أَمَّا حَدِيثُ الشَّافِعِيِّ فَفِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ عَنْهُ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ بُكَيْرٍ:.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
امام مالک رحمہ اللہ سے یہ الفاظ زائد منقول ہیں: ”وہ لوگ جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔“
امام مالک رحمہ اللہ سے یہ الفاظ زائد منقول ہیں: ”وہ لوگ جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔“
حدیث نمبر: 9417
فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ، وَإِنَّمَا أَرَادَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِقَوْلِهَا فِيهِمْ أَنَّهُمْ إِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي رِوَايَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے یہ مراد ہے کہ انہوں نے ایک طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ یہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے یہ مراد ہے کہ انہوں نے ایک طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ یہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے۔
حدیث نمبر: 9418
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَهَذَا لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُفْرِدًا فِيمَا نَعْلَمُ، وَبَعْضُ أَصْحَابِهِ كَانُوا قَارِنِينَ فَاقْتَصَرُوا عَلَى سَعْيٍ وَاحِدٍ، وَأَمَّا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَكَانَتْ قَارِنَةً بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَبْلَ عَرَفَةَ فَطَافَتْ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک ہی پہلا طواف کیا۔
(ب) یہ اس لیے کہ نبی ﷺ مفرد تھے اور بعض صحابہ قارن تھے، تو انہوں نے ایک سعی کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کو عمرہ پر داخل کیا اور عرفہ سے پہلے نہ طواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد انہوں نے طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: ”۔۔۔“
(ب) یہ اس لیے کہ نبی ﷺ مفرد تھے اور بعض صحابہ قارن تھے، تو انہوں نے ایک سعی کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کو عمرہ پر داخل کیا اور عرفہ سے پہلے نہ طواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد انہوں نے طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: ”۔۔۔“
حدیث نمبر: 9419
مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ ⦗١٧٣⦘ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ وَطَهُرَتْ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْزِيكِ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ سرف میں حائضہ ہو گئیں اور عرفہ میں طہر والی ہوئیں تو انہیں نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے حج اور عمرے کے لیے صفا و مروہ کے درمیان ایک ہی طواف کفایت کر جائے گا۔“
حدیث نمبر: 9420
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِعَائِشَةَ: " طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تیرا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنا تیرے حج و عمرے کے لیے کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 9421
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ. وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَجَاءَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَسَعْكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ " فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور وہ آئیں، ابھی بیت اللہ کا طواف بھی نہ کیا تھا کہ حائضہ ہو گئیں تو انہوں نے تمام تر مناسک ادا کیے اور حج کا تلبیہ کہا تو ان کو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیرا طواف تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔“ تو انہوں نے انکار کیا تو نبی ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ تنعیم بھیجا تو انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔
حدیث نمبر: 9423
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا لَكِ تَبْكِينَ؟ " ⦗١٧٤⦘ قَالَتْ: أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ حَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّي"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَلَمَّا طَهُرْتُ، قَالَ: " طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ" فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ، فَقَالَ: " اذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیوں روتی ہے؟“ کہنے لگیں: روئی اس بات پر ہوں کہ لوگ حلال ہو گئے، میں حلال نہیں ہوئی؛ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور میں ابھی تک نہ کر سکی اور حج کا وقت آن پہنچا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جسے اللہ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کا تلبیہ کہہ، پھر حج کر۔“ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں پاک ہو گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر لے تو تو حج و عمرہ سے حلال ہو جائے گی۔“ تو کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے دل میں عمرہ کے بارے میں کچھ محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج کرنے سے پہلے طواف نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا دے۔“
حدیث نمبر: 9424
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَتْ بِسَرِفَ حَاضَتْ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا أَصَابَهُنَّ " فَلَمَّا قَدِمْتِ الْبَطْحَاءَ أَمَرَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَضَتْ نُسُكَهَا وَجَاءَتْ إِلَى الْحَصْبَاءِ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتَمِرَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكِ قَدْ قَضَيْتِ حَجَّكِ وَعُمْرَتَكِ "، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ، قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ والے حج میں عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب سرف تک پہنچیں تو حائضہ ہو گئیں، یہ بات ان کو ناگوار گزری تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو بناتِ آدم میں سے ہے، تجھے بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو ہوتا ہے۔“ جب وہ بطحاء پہنچیں تو نبی ﷺ نے ان کو حکم دیا، انہوں نے حج کا تلبیہ کہا اور جب تمام مناسک ادا کر لیے تو حصباء میں آئیں اور عمرہ کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنا حج اور عمرہ کر لیا ہے“ اور نبی ﷺ نرم آدمی تھے، جب کچھ آسان ہوتا تو اسی کو لے لیتے۔
حدیث نمبر: 9425
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحُجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَكَلَّمَهُ ابْنَاهُ سَالِمٌ، وَعَبْدُ اللهِ فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَيُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَحَلَقَ وَرَجَعَ وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّجَرَةِ فَلَبَّى بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا أَشْرَفَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، قَالَ: وَلَيْسَ مَعَهُ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ فَسَارَ حَتَّى بَلَغَ قُدَيْدًا ابْتَاعَ بِهَا هَدْيًا فَقَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ، وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حجاج، ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تھا تو ان کے بیٹوں سالم اور عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس سال حج نہ بھی کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمیں خدشہ ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے گی تو وہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو جائیں گے۔ وہ کہنے لگے: اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیا تھا جب قریش آپ ﷺ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے تو آپ ﷺ نے سر منڈوایا اور واپس آ گئے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا ارادہ کیا ہے، پھر درخت کے پاس گئے اور عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے کہ معاملہ تو دونوں کا ایک سا ہی ہے، اگر میرے اور عمرہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میرے اور حج کے درمیان حائل ہوا گیا، گواہ ہو جاؤ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس قربانی نہ تھی، وہ چلے حتیٰ کہ قدید پہنچے، وہاں سے قربانی خریدی اس کو قلادہ پہنایا اور «إِشْعَارٌ» ”جانور کو نشان زد کرنا“ کیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے، حتیٰ کہ جب مکہ داخل ہوئے تو ان دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ہی طواف کیا بیت اللہ کا بھی اور صفا و مروہ کا بھی، اور وہ فرماتے تھے کہ جو حج و عمرہ کو جمع کرے اس کو ایک ہی طواف کافی ہے اور وہ حلال نہ ہوئے حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوئے۔
حدیث نمبر: 9426
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا ⦗١٧٥⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، وَسَعَى لَهُمَا سَعْيًا وَاحِدًا " زَادَا فِي رِوَايَتِهِمَا " وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " وَقِيلَ فِي مَعْنَاهُ دَخَلَتْ فِي أَجْزَاءِ أَفْعَالِ الْحَجِّ فَاتَّحَدَتَا فِي الْعَمَلِ فَلَا يَطُوفُ الْقَارِنُ أَكْثَرَ مِنْ طَوَافٍ وَاحِدٍ لَهُمَا وَكَذَلِكَ السَّعْيُ كَمَا لَا يُحْرِمُ لَهُمَا إِلَّا إِحْرَامًا وَاحِدًا، وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ فِي الْقَارِنِ يَطُوفُ طَوَافَيْنِ وَيَسْعَى سَعْيًا، قَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَذَا عَلَى مَعْنَى قَوْلِنَا يَعْنِي يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ لِلزِّيَارَةِ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: عَلَيْهِ طَوَافَانِ وَسَعْيَانِ، وَاحْتَجَّ فِيهِ بِرِوَايَةٍ ضَعِيفَةٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرٌ يَرْوِي عَنْ عَلِيٍّ قَوْلَنَا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،⦗١٧٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي الطَّوَافَيْنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حج و عمرہ کو جمع کیا وہ ان دونوں کے لیے ایک ہی طواف کرے اور صفا و مروہ کی ایک ہی سعی کرے اور حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہو جائے۔“
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہے۔“ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے افعال حج میں داخل ہیں۔ دونوں عمل میں متحد ہیں۔ قارن ایک طواف سے زیادہ نہیں کرے گا، اسی طرح سعی ہے، ان کا احرام بھی ایک ہی ہوگا۔
(ج) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قارن کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ دو طواف اور ایک سعی کرے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہمارے قول کا معنی ہے کہ طوافِ قدوم اور صفا و مروہ کی سعی کرے گا، پھر طوافِ زیارت کرے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں: دو طواف اور دو سعی کرے گا۔ انہوں نے ایک ضعیف روایت سے دلیل پکڑی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: زیادہ صحیح وہی ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دو طوافوں کے متعلق منقول ہے۔
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہے۔“ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے افعال حج میں داخل ہیں۔ دونوں عمل میں متحد ہیں۔ قارن ایک طواف سے زیادہ نہیں کرے گا، اسی طرح سعی ہے، ان کا احرام بھی ایک ہی ہوگا۔
(ج) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قارن کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ دو طواف اور ایک سعی کرے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہمارے قول کا معنی ہے کہ طوافِ قدوم اور صفا و مروہ کی سعی کرے گا، پھر طوافِ زیارت کرے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں: دو طواف اور دو سعی کرے گا۔ انہوں نے ایک ضعیف روایت سے دلیل پکڑی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: زیادہ صحیح وہی ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دو طوافوں کے متعلق منقول ہے۔
حدیث نمبر: 9427
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، أَوْ مَنْصُورٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ هُوَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَقُلْتُ: هَلْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ كَمَا فَعَلْتَ؟، قَالَ: " ذَلِكَ لَوْ كُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَةِ " قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِكَ؟، قَالَ: " تَأْخُذُ إدَاوَةً مِنْ مَاءٍ فَتُفِيضُهَا عَلَيْكَ ثُمَّ تُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا، ثُمَّ تَطُوفُ لَهُمَا طَوَافَيْنِ وَتَسْعَى لَهُمَا سَعْيَيْنِ، وَلَا يَحِلُّ لَكَ حَرَامٌ دُونَ يَوْمِ النَّحْرِ "، قَالَ مَنْصُورٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُجَاهِدٍ، قَالَ: مَا كُنَّا نُفْتِي إِلَّا بِطَوَافٍ وَاحِدٍ فَأَمَّا الْآنَ فَلَا تَفْعَلْ، كَذَا رُوِيَ عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ فَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ السَّعْيَ، وَكَذَلِكَ شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا مَجْهُولٌ فَإِنْ صَحَّ فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ طَوَافَ الْقُدُومِ، وَطَوَافَ الزِّيَارَةِ وَأَرَادَ سَعْيًا وَاحِدًا عَلَى مَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَصَاحِبَاهُ فَلَا يَكُونُ لِرِوَايَةِ جَعْفَرٍ مُخَالِفًا وَقَدْ رُوِيَ بِأَسَانِيدَ ضِعَافٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا، وَمَرْفُوعًا قَدْ ذَكَرْتُهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ، وَمَدَارُ ذَلِكَ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ وَحَفْصِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ وَعِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَحَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكُلُّهُمْ ضَعِيفٌ وَلَا يُحْتَجُّ بِشَيْءٍ مِمَّا رَوَوْهُ مِنْ ذَلِكَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو نضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا تھا اور میں نے صرف حج کا، تو میں نے کہا: ”کیا میں اس طرح کر سکتا ہوں جس طرح آپ نے کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ممکن ہے اگر تو عمرے سے ابتدا کرے۔“ میں نے کہا: ”اگر میں عمرہ کا ارادہ کروں تو کیسے کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”پانی کا ایک لوٹا لے اس کو اپنے اوپر بہا، پھر ان دونوں کا تلبیہ کہہ، پھر ان دونوں کے لیے دو طواف کر اور دو سعی کر اور یومِ نحر سے پہلے تیرے لیے کوئی بھی حرام چیز حلال نہ ہوگی۔“