حدیث نمبر: 9409
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ مَتَى يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ؟ فقال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ "، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " حَتَّى يَمْسَحَ الْحَجَرَ " قُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالملک کہتے ہیں کہ عطاء سے پوچھا گیا کہ عمرہ کرنے والا تلبیہ کب چھوڑے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب حرم میں داخل ہو اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب حجر اسود کو چھوئے، تو میں نے کہا: اے ابو محمد! ان دونوں میں سے آپ کو کون سی بات پسند ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9409
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»