کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دونوں میں سے کسی پر اس بات کی تنگی نہیں کہ وہ ایسا کلام یا شعر وغیرہ پڑھے جس میں کوئی گناہ نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً " ⦗١١٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشِّعْرُ كَلَامٌ حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلَامِ، وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِهِ " هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شعر کلام ہے۔ اچھا شعر اچھے کلام کی طرح اور برا شعر برے کلام کی طرح ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: سَمِعَ عُمَرُ رَجُلًا يَتَغَنَّى بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ: الْغِنَاءُ مِنْ زَادِ الرَّاكِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو چٹیل زمین میں گنگناتے ہوئے سنا تو فرمایا: گانا سوار کا زاد راہ ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَبُو الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكِبَ رَاحِلَةً لَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ يَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَى قَالَ الرَّبِيعُ: أَظُنُّهُ قَالَ عُمَرُ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ محرم تھے، اونٹنی پر سوار ہوئے تو وہ اڑی کرنے لگی، ایک قدم آگے بڑھاتی تو دوسرا پیچھے کرتی تو انہوں نے کہا: ”گویا کہ اس کا سوار پنکھے کی ٹہنی ہے، جب وہ اس کو لے کر اڑ جاتا ہے یا پینے والا سست ہے“ پھر کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فِي خِلَافَتِهِ وَمَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَتَرَنَّمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِبَيْتٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ لَيْسَ مَعَهُ عِرَاقِيٌّ غَيْرُهُ: غَيْرُكَ فَلْيَقُلْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاسْتَحْيَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ وَضَرَبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى انْقَطَعَتْ مِنَ الْمَوْكِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے ساتھ چل رہے تھے اور مہاجرین و انصار بھی ساتھ تھے، انہوں نے سُر لگا کر ایک شعر پڑھا تو ایک عراقی آدمی نے کہا (اس وقت ان کے ساتھ اور کوئی عراقی نہیں تھا): اے امیر المؤمنین! آپ کے علاوہ کوئی اور یہ کہتا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات سے حیا آئی اور انہوں نے اپنی سواری کو بھگایا حتیٰ کہ وہ قافلے سے جدا ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَسِرْنَا فِي رَكِبٍ فِيهِمْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: ⦗١١١⦘ غَنِّنَا يَا خَوَّاتُ، فَغَنَّاهُمْ فَقَالُوا: غَنِّنَا مِنْ شِعْرِ ضِرَارٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دَعُوا أَبَا عَبْدِ اللهِ يَتَغَنَّى مِنْ بُنَيَّاتِ فُؤَادِهِ يَعْنِي مِنْ شِعْرِهِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُغَنِّيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ارْفَعْ لِسَانَكَ يَا خَوَّاتُ، فَقَدْ أَسْحَرْنَا، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلُمَّ إِلَى رَجُلٍ أَرْجُو أَلَّا يَكُونَ شَرًّا مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ حَتَّى صَلَّيْنَا الْفَجْرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے تو ہم اس قافلہ میں ہو لیے جس میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما تھے، تو لوگوں نے کہا: اے خوات! ہمیں کچھ گا کر سنا، تو انہوں نے ان کو سنایا تو انہوں نے کہا: ہمیں ضرار کے اشعار سنا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبداللہ کو چھوڑ دو، وہ اپنی شاعری پیش کرے، تو میں ان کو سناتا رہا حتیٰ کہ جب سحر ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے خوات! اپنی زبان بلند کر، ہم نے سحر کر لی ہے، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کی طرف چل، کہیں عمر سے شر نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ علیحدہ ہوئے حتیٰ کہ ہم نے فجر پڑھ لی۔