کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: محرم اور غیر محرم (حلال) کے لیے یہ بات پسندیدہ ہے کہ ان کی گفتگو اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو، یا ایسی بات پر جس میں ان کے لیے دین یا دنیا کا فائدہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّ عَلَيْهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ يَتَغَنَّى فَقَالَ: أَلَا لَا سَمِعَ اللهُ لَكُمْ، أَلَا لَا سَمِعَ اللهُ لَكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک قوم گزری جو محرم تھی اور ان میں ایک آدمی گانا گا رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: خبردار! اللہ تمہاری نہیں سنے گا، خبردار! اللہ تمہاری نہیں سنے گا۔