السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لا يضيق على واحد منهما أن يتكلم بما لا يأثم فيه من شعر، أو غيره باب: ان دونوں میں سے کسی پر اس بات کی تنگی نہیں کہ وہ ایسا کلام یا شعر وغیرہ پڑھے جس میں کوئی گناہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 9183
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَبُو الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكِبَ رَاحِلَةً لَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ يَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَى قَالَ الرَّبِيعُ: أَظُنُّهُ قَالَ عُمَرُ:.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ محرم تھے، اونٹنی پر سوار ہوئے تو وہ اڑی کرنے لگی، ایک قدم آگے بڑھاتی تو دوسرا پیچھے کرتی تو انہوں نے کہا: ”گویا کہ اس کا سوار پنکھے کی ٹہنی ہے، جب وہ اس کو لے کر اڑ جاتا ہے یا پینے والا سست ہے“ پھر کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے“۔