السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لا يضيق على واحد منهما أن يتكلم بما لا يأثم فيه من شعر، أو غيره باب: ان دونوں میں سے کسی پر اس بات کی تنگی نہیں کہ وہ ایسا کلام یا شعر وغیرہ پڑھے جس میں کوئی گناہ نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَسِرْنَا فِي رَكِبٍ فِيهِمْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: ⦗١١١⦘ غَنِّنَا يَا خَوَّاتُ، فَغَنَّاهُمْ فَقَالُوا: غَنِّنَا مِنْ شِعْرِ ضِرَارٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دَعُوا أَبَا عَبْدِ اللهِ يَتَغَنَّى مِنْ بُنَيَّاتِ فُؤَادِهِ يَعْنِي مِنْ شِعْرِهِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُغَنِّيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ارْفَعْ لِسَانَكَ يَا خَوَّاتُ، فَقَدْ أَسْحَرْنَا، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلُمَّ إِلَى رَجُلٍ أَرْجُو أَلَّا يَكُونَ شَرًّا مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ حَتَّى صَلَّيْنَا الْفَجْرَ.سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے تو ہم اس قافلہ میں ہو لیے جس میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما تھے، تو لوگوں نے کہا: اے خوات! ہمیں کچھ گا کر سنا، تو انہوں نے ان کو سنایا تو انہوں نے کہا: ہمیں ضرار کے اشعار سنا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبداللہ کو چھوڑ دو، وہ اپنی شاعری پیش کرے، تو میں ان کو سناتا رہا حتیٰ کہ جب سحر ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے خوات! اپنی زبان بلند کر، ہم نے سحر کر لی ہے، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کی طرف چل، کہیں عمر سے شر نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ علیحدہ ہوئے حتیٰ کہ ہم نے فجر پڑھ لی۔