کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: محرم اپنی چادر پر گرہ نہ لگائے البتہ اگر چاہے تو اپنی چادر کے دونوں کناروں کو اپنے تہبند میں اڑس لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْعَى بِالْبَيْتِ وَقَدْ حَزَّمَ عَلَى بَطْنِهِ بِثَوْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بیت اللہ کی سعی کرتے ہوئے دیکھا، جبکہ انہوں نے اپنے پیٹ پر کپڑا باندھ رکھا تھا۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ عَقَدَ الثَّوْبَ عَلَيْهِ إِنَّمَا غَرَزَ طَرْفَهُ عَلَى إِزَارِهِ،.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کپڑے کو گرہ نہیں لگائی تھی، بلکہ اس کے کونے کو ازار میں داخل کیا تھا۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُحْتَزِمًا بِحَبْلٍ أَبْرَقَ فَقَالَ: " انْزِعِ الْحَبْلَ ". مَرَّتَيْنِ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَوَاهُ أَيْضًا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ إِلَّا أَنَّ أَحَدَهُمَا يَتَأَكَّدُ بِالْآخَرِ، ثُمَّ بِمَا مَضَى مِنْ أَثَرِ ابْنِ عُمَرَ، ثُمَّ بِأَنَّهُ إِذَا عُقِدَ صَارَ فِي مَعْنَى الْمَخِيطِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے دو رنگی رسی (کمر پر) باندھ رکھی تھی تو آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: ”رسی اتار دو۔“
یہ روایت منقطع ہے، اور اسے ابن ابی ذئب نے بھی صالح بن حسان کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور وہ بھی منقطع ہے، البتہ ان میں سے ہر ایک دوسری سے تقویت پاتی ہے، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گزشتہ اثر سے، پھر اس بات سے کہ جب اسے گرہ لگا دی جائے تو وہ سلے ہوئے کپڑے کے حکم میں ہو جاتا ہے۔
یہ روایت منقطع ہے، اور اسے ابن ابی ذئب نے بھی صالح بن حسان کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور وہ بھی منقطع ہے، البتہ ان میں سے ہر ایک دوسری سے تقویت پاتی ہے، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گزشتہ اثر سے، پھر اس بات سے کہ جب اسے گرہ لگا دی جائے تو وہ سلے ہوئے کپڑے کے حکم میں ہو جاتا ہے۔