السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يعقد المحرم رداءه عليه ولكن يغرز طرفي ردائه إن شاء في إزاره باب: محرم اپنی چادر پر گرہ نہ لگائے البتہ اگر چاہے تو اپنی چادر کے دونوں کناروں کو اپنے تہبند میں اڑس لے۔
حدیث نمبر: 9072
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُحْتَزِمًا بِحَبْلٍ أَبْرَقَ فَقَالَ: " انْزِعِ الْحَبْلَ ". مَرَّتَيْنِ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَوَاهُ أَيْضًا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ إِلَّا أَنَّ أَحَدَهُمَا يَتَأَكَّدُ بِالْآخَرِ، ثُمَّ بِمَا مَضَى مِنْ أَثَرِ ابْنِ عُمَرَ، ثُمَّ بِأَنَّهُ إِذَا عُقِدَ صَارَ فِي مَعْنَى الْمَخِيطِ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے دو رنگی رسی (کمر پر) باندھ رکھی تھی تو آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: ”رسی اتار دو۔“
یہ روایت منقطع ہے، اور اسے ابن ابی ذئب نے بھی صالح بن حسان کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور وہ بھی منقطع ہے، البتہ ان میں سے ہر ایک دوسری سے تقویت پاتی ہے، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گزشتہ اثر سے، پھر اس بات سے کہ جب اسے گرہ لگا دی جائے تو وہ سلے ہوئے کپڑے کے حکم میں ہو جاتا ہے۔