کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو حج کی نذر مانے اور اس پر فرض حج بھی باقی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الْقَدَّاحُ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ فَقَالَ: " هَذِهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ فَلْيَلْتَمِسْ أَنْ يَقْضِيَ نَذْرَهُ يَعْنِي مَنْ عَلَيْهِ الْحَجُّ وَنَذَرَ حَجًّا ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا، یعنی جس پر حج فرض ہو اور وہ حج کی نذر مان لے، تو انہوں نے فرمایا: یہ اسلام کا فرض حج ہے، وہ اپنی نذر کو پورا کرنے کا سوچے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ امْرَأَةً سَأَلْتِ ابْنَ عُمَرَ قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَحُجَّ، فَلَمْ أَحُجَّ: فَقَالَ: " ابْدَئِي بِحَجَّةِ الْإِسْلَامِ " فَقَالَتْ: إِنِّي فَقِيرَةٌ مِسْكِينَةٌ فَادْعُ اللهَ لِي فَدَعَا اللهَ أَنْ يُيَسِّرَ لَهَا.
حافظ ثناء اللہ
زید بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے سنا وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہی تھی کہ میں نے حج کرنے کی نذر مانی ہے جب کہ فرض حج بھی نہیں کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے فرض حج کرو! تو وہ کہنے لگی کہ میں تو فقیر و مسکین ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی بھی فرمائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، أنبأ أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَوْ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ، وَلَمْ يَحُجَّ قَطُّ، قَالَ: " لِيَبْدَأْ بِالْفَرِيضَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں جس نے حج کرنے کی نذر مانی ہو اور ابھی فرضی حج نہ کیا ہو، فرماتے ہیں کہ وہ پہلے فرض حج کرے۔