السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل ينذر الحج وعليه حجة الإسلام باب: اس شخص کا بیان جو حج کی نذر مانے اور اس پر فرض حج بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 8692
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ امْرَأَةً سَأَلْتِ ابْنَ عُمَرَ قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَحُجَّ، فَلَمْ أَحُجَّ: فَقَالَ: " ابْدَئِي بِحَجَّةِ الْإِسْلَامِ " فَقَالَتْ: إِنِّي فَقِيرَةٌ مِسْكِينَةٌ فَادْعُ اللهَ لِي فَدَعَا اللهَ أَنْ يُيَسِّرَ لَهَا.حافظ ثناء اللہ
زید بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے سنا وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہی تھی کہ میں نے حج کرنے کی نذر مانی ہے جب کہ فرض حج بھی نہیں کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے فرض حج کرو! تو وہ کہنے لگی کہ میں تو فقیر و مسکین ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، تو انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی بھی فرمائے۔