کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو زادِ راہ اور سواری تو پائے مگر ثواب کی زیادتی کی نیت سے پیدل چل کر حج کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللهِ ⦗٥٤٢⦘ أَيَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لَهَا: " انْتَظِرِي فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ ثُمَّ ائَتِينَا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنَّهُ عَلَى قَدْرِ عَنَائِكِ وَنَصَبِكِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ دو نیکیاں کما کر جائیں گے اور کیا میں صرف ایک ہی نیکی کے ساتھ پلٹ جاؤں؟ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”انتظار کر، جب تو پاک ہو جائے تو تنعیم کی طرف نکل جانا اور وہاں سے تلبیہ کہہ کر پھر ہمارے پاس فلاں فلاں جگہ پر آ جانا، لیکن اجر تو تیری مشقت و تھکاوٹ کے حساب سے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَا آسَى عَلَى شَيْءٍ مَا آسَى عَلَى أَنِّي لَمْ أَحُجَّ مَاشِيًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے اتنا افسوس اور کسی بات کا نہیں جتنا اس بات کا ہے کہ میں نے پیدل حج نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَا نَدِمْتُ عَلَى شَيْءٍ فَاتَنِي فِي شَبَابِي إِلَّا أَنِّي لَمْ أَحُجَّ مَاشِيًا "، وَلَقَدْ حَجَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَمْسَةً وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِيًا وَإِنَّ النَّجَائِبَ لَتُقَادُ مَعَهُ، لَقَدْ قَاسَمَ اللهَ مَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى أَنَّهُ يُعْطِي الْخُفَّ وَيُمْسِكُ النَّعْلَ. ابْنُ عُمَيْرٍ يَقُولُ: ذَلِكَ رِوَايَةً عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جوانی میں جو کام میرے رہ گئے ہیں مجھے کسی پر ندامت نہیں مگر اس بات پر کہ میں پیدل حج نہ کر سکا اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے پچیس حج پیدل کیے ہیں، جب کہ بہترین سواریاں ان کے ساتھ ہوتی تھیں اور انہوں نے تین مرتبہ اپنا مال اللہ کے ساتھ (آدھا آدھا) تقسیم کیا حتیٰ کہ وہ موزہ دے دیتے تھے اور صرف جوتا رکھتے ہیں۔
اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرفوع حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس میں ضعف ہے۔
اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرفوع حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس میں ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ الْكِنْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَمَعَ إِلَيْهِ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ فَقَالَ لَهُمْ: يَا بَنِيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَجَّ مِنْ مَكَّةَ مَاشِيًا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ سَبْعُمِائَةِ حَسَنَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ " فَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَمَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ؟ قَالَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ بِمِائَةِ أَلْفِ حَسَنَةٍ " تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ هَذَا، وَهُوَ مَجْهُوَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل و عیال کو جمع کیا اور فرمایا: اے میرے بیٹو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مکہ کا حج پیدل کیا، حتیٰ کہ وہ واپس آ گیا تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے حرم والی سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ تو کسی نے پوچھا: یہ حرم والی نیکیاں کیا ہیں؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں یہ عیسیٰ بن سوادہ منفرد ہے اور وہ مجہول ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں یہ عیسیٰ بن سوادہ منفرد ہے اور وہ مجہول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الزِّيَادِيُّ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ حَجَّا مَاشِيَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے پیدل حج کیا تھا۔