کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے سوار ہو کر حج کرنے کو اختیار کیا کیونکہ اس میں خرچ کی زیادتی اور دعا کے لیے یکسوئی ہے، اور اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے سوار ہو کر حج کیا، اور بھلائی اسی میں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
حدیث نمبر: 8648
بَابُ مَنِ اخْتَارَ الرُّكُوبَ لِمَا فِيهِ مِنْ زِيَادَةِ النَّفَقَةِ وَالْإِجْمَامِ لِلدُّعَاءِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ رَاكِبًا وَالْخَيْرُ فِي كُلِّ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
اس شخص کے بیان کا باب جس نے سواری کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں خرچ کی زیادتی اور دعا کے لیے یکسوئی و راحت ہے، اور بے شک رسول اللہ ﷺ نے سوار ہو کر حج کیا، اور بھلائی اسی میں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
حدیث نمبر: 8648
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُمَا، قَالَا: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ، قَالَ: " انْتَظِرِي فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ ثُمَّ أَلْقِينَا عِنْدَ كَذَا وَكَذَا " قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ غَدًا، وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ " أَوْ قَالَ: " نَفَقَتِكِ " أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگ دو عبادتیں کر کے جائیں گے اور میں صرف ایک! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انتظار کرلو۔ جب حالت طہر میں آجاؤ تو تنعیم سے جا کر تلبیہ کہہ لینا اور پھر فلاں فلاں جگہ پر ہم سے مل جانا، لیکن یہ سب تیری تھکاوٹ یا خرچہ پر منحصر ہے۔“
حدیث نمبر: 8649
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي زُهَيْرٍ الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبْعِينَ ضِعْفًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”حج میں خرچ کرنا جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے سے ستر گنا افضل ہے۔“
حدیث نمبر: 8650
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ. قَالَا: أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ نَحْنُ مُتَوَكِّلُونَ فَيَحُجُّونَ إِلَى مَكَّةَ وَيَسْأَلُونَ النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: ١٩٧]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ عَنْ شَبَابَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل یمن حج کرتے تھے اور زادِ راہ ساتھ نہیں لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم توکل کرنے والے ہیں اور وہ مکہ تک حج کرنے آتے ہوئے لوگوں سے مانگتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى﴾ [سورة البقرة: 197] ”اور زادِ راہ لے کر چلو، یقیناً تقویٰ بہتر زادِ راہ ہے۔“
حدیث نمبر: 8651
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَحُجُّ عَلَى رَحْلٍ وَلَمْ يَكُنْ شَحِيحًا وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ. ⦗٥٤٤⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سواری پر حج کرتے تھے اور وہ بخیل نہیں تھے، اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سواری پر حج کیا۔
حدیث نمبر: 8652
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو حَامِدِ بْنِ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ الصَّدْرِ فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَةٌ يَمَانِيَّةٌ رِحَالُهُمُ الْأُدُمُ وَخُطُمُ إِبِلِهِمُ الْخُزُمُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ وَرَدَتِ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِذْ قَدِمُوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذِهِ الرُّفْقَةِ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صدر والے دن طوافِ صدر کیا تو ہمارے ساتھ ایک یمنی قافلہ گزرا، ان کے کجاوے چمڑے کے تھے اور ان کے اونٹوں کی مہاریں پیٹی کی رسی کی تھیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو یہ چاہتا ہے کہ اس قافلے کے مشابہ ترین قافلہ دیکھے جو حجِ وداع والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا تھا تو وہ اس قافلے کو دیکھ لے۔
حدیث نمبر: 8653
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمٍ الْكِنَانِيُّ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مَوَالِيهِمْ عَنْ بِشْرِ بْنِ قُدَامَةَ الضِّبَابِيِّ، قَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِبِّي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ حَمْرَاءَ قَصْوَاءَ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ بُولَانِيَّةٌ وَهُوَ يَقُولُ: " اللهُمَّ اجْعَلْهَا حَجَّةً غَيْرَ رِئَاءٍ وَلَا هَبَاءٍ وَلَا سُمْعَةٍ "، وَالنَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ حَكِيمٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَكِيمٍ وَمَا الْقُصْوَى قَالَ أَحْسَبُهَا الْمُبْتَرَّةَ الْأُذُنَيْنِ فَإِنَّ النُّوقَ تُبْتَرُ آذَانُهَا لِتَسْمَعَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بشر بن قدامہ ضبابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے میرے محبوب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، وہ لوگوں کے ساتھ میدانِ عرفات میں سرخ رنگ کی قصواء اونٹنی پر سوار تھے اور ان کے نیچے بولانی چادر تھی اور وہ فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا لَا رِيَاءَ فِيهِ وَلَا سُمْعَةَ، وَلَا كَسَادَ» ”اے اللہ! اس حج کو ریا کاری اور شہرت والا حج نہ بنانا اور نہ ہی اس کو ضائع کرنا“ اور لوگ کہہ رہے تھے: ”یہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔“ سعید بن بشیر کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن حکیم سے پوچھا: ”اے ابو حکیم! یہ قصواء کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جس کے کان کٹے ہوں، اونٹنی کے کان کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سنے۔“