السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يجد زادا وراحلة فيحج ماشيا يحتسب فيه زيادة الأجر باب: اس شخص کا بیان جو زادِ راہ اور سواری تو پائے مگر ثواب کی زیادتی کی نیت سے پیدل چل کر حج کرے۔
حدیث نمبر: 8646
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ الْكِنْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَمَعَ إِلَيْهِ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ فَقَالَ لَهُمْ: يَا بَنِيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَجَّ مِنْ مَكَّةَ مَاشِيًا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ سَبْعُمِائَةِ حَسَنَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ " فَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَمَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ؟ قَالَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ بِمِائَةِ أَلْفِ حَسَنَةٍ " تَفَرَّدَ بِهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ هَذَا، وَهُوَ مَجْهُوَلٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل و عیال کو جمع کیا اور فرمایا: اے میرے بیٹو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مکہ کا حج پیدل کیا، حتیٰ کہ وہ واپس آ گیا تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے حرم والی سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ تو کسی نے پوچھا: یہ حرم والی نیکیاں کیا ہیں؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔