کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ النَّوْمِ عَلَى الْوِتْرِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُورَكٍ: الْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الضُّحَى. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَأَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے دوست ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، ضحی کی دو رکعتیں ادا کرنا اور وتر کے بعد سونا۔“
(ابن فورک کی روایت میں ہے کہ سونے سے پہلے وتر پڑھنا اور کہا: ضحی کی نماز۔)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8436
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ⦗٤٨٥⦘ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ فَجَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ " فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے۔ جب پڑاؤ کیا تو ان کی طرف کھانے کے لیے پیغام بھیجا گیا مگر وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے ایلچی سے کہا: میں روزے سے ہوں، مگر جب کھانا رکھا گیا اور سب انڈیلنے لگے تو وہ بھی آگئے اور کھانا شروع کر دیا، تو قوم نے ایلچی کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے مجھے ہی بتایا ہے کہ میں روزے سے ہوں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کے مہینہ کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے پورے سال کے روزے ہیں۔“ سو میں نے مہینے کے تین رکھے ہیں اور میں مضطر ہوں اللہ کی طرف سے دی ہوئی تخفیف کی وجہ سے اور روزے دار ہوں اجر کے اضافے کے لیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8437
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَجُلٌ طَوِيلٌ أَسْوَدُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ عَلَى أِيِّ حَالٍ هُوَ الْيَوْمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَصَائِمٌ أَنْتَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْإِذْنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلُوا فَأُتِينَا بِقِصَاعٍ فَأَكَلَ فَحَرَّكْتُهُ أُذَكِّرُهُ بِيَدِي فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَنْسَ مَا قُلْتُ لَكَ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي صَائِمٌ إِنِّي أَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَأَنَا أَبَدًا صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو ایک لمبا آدمی سیاہ رنگ کا دیکھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: آج یہ کس حالت میں ہیں؟ میں ضرور دیکھوں گا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ روزے سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لیے اجازت کا انتظار کر رہے تھے، سو وہ داخل ہو گئے۔ ہم کھانے کا برتن وغیرہ لائے تو انہوں نے کھایا، سو میں نے حرکت دی اور اپنے ہاتھ سے یاد کروانا چاہا تو انہوں نے کہا: جو میں نے کہا تھا، میں اس سے بھولا نہیں ہوں۔ میں نے تجھے خبر دی تھی کہ میں صائم ہوں، میں ہر مہینے میں سے تین روزے رکھتا ہوں، بلکہ میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8438
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»