السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: صوم ثلاثة أيام من كل شهر باب: ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ⦗٤٨٥⦘ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ فَجَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ " فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللهِ.ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے۔ جب پڑاؤ کیا تو ان کی طرف کھانے کے لیے پیغام بھیجا گیا مگر وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے ایلچی سے کہا: میں روزے سے ہوں، مگر جب کھانا رکھا گیا اور سب انڈیلنے لگے تو وہ بھی آگئے اور کھانا شروع کر دیا، تو قوم نے ایلچی کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے مجھے ہی بتایا ہے کہ میں روزے سے ہوں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کے مہینہ کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے پورے سال کے روزے ہیں۔“ سو میں نے مہینے کے تین رکھے ہیں اور میں مضطر ہوں اللہ کی طرف سے دی ہوئی تخفیف کی وجہ سے اور روزے دار ہوں اجر کے اضافے کے لیے۔