حدیث نمبر: 8438
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَجُلٌ طَوِيلٌ أَسْوَدُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ عَلَى أِيِّ حَالٍ هُوَ الْيَوْمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَصَائِمٌ أَنْتَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْإِذْنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلُوا فَأُتِينَا بِقِصَاعٍ فَأَكَلَ فَحَرَّكْتُهُ أُذَكِّرُهُ بِيَدِي فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَنْسَ مَا قُلْتُ لَكَ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي صَائِمٌ إِنِّي أَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَأَنَا أَبَدًا صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو ایک لمبا آدمی سیاہ رنگ کا دیکھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: آج یہ کس حالت میں ہیں؟ میں ضرور دیکھوں گا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ روزے سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لیے اجازت کا انتظار کر رہے تھے، سو وہ داخل ہو گئے۔ ہم کھانے کا برتن وغیرہ لائے تو انہوں نے کھایا، سو میں نے حرکت دی اور اپنے ہاتھ سے یاد کروانا چاہا تو انہوں نے کہا: جو میں نے کہا تھا، میں اس سے بھولا نہیں ہوں۔ میں نے تجھے خبر دی تھی کہ میں صائم ہوں، میں ہر مہینے میں سے تین روزے رکھتا ہوں، بلکہ میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8438
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»