کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: یومِ عاشوراء کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَذَا الْيَوْمَ الَّذِي تَصُومُونَهُ " فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى الله عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرِقَ فِيهِ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ". فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو یہودِ مدینہ کو دیکھا کہ وہ یومِ عاشور کا روزہ رکھتے ہیں، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: یہ ایک عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور قومِ موسیٰ کو فرعون سے نجات دلائی تھی اور فرعون اور قومِ فرعون کو غرق کیا تھا، تو موسیٰ علیہ السلام نے شکر کرتے ہوئے یہ روزہ رکھا اور ہم (بھی) روزہ رکھتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار اور ان کے زیادہ قریبی ہیں۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8397
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَلْتَمِسُ فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَشَهْرَ رَمَضَانَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی دن کے روزے کو تلاش کرتے ہوں جسے دوسرے روزوں پر فضیلت دی جائے، سوائے اس دن کے یعنی یومِ عاشور اور رمضان کے مہینے کے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8398
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهِشَامٌ، وَمَهْدِيٌّ، قَالَ حَمَّادٌ: وَمَهْدِيٌّ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِكَ نَبِيًّا أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ ذَلِكَ حَتَّى سَكَنَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " أَوْ قَالَ: " مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ يصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا، فَقَالَ: " وَمَنْ يَطِيقُ ذَلِكَ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ يفْطِرُ يَوْمَيْنِ وَيَصُومُ يَوْمًا، فَقَالَ: " لَوَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، فَقَالَ: " ⦗٤٧٤⦘ ذَلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، فَقَالَ: " ذَلِكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: " إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، قَالَ: " إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهَا وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اس روزے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ ناراض ہو گئے اور غصہ آپ ﷺ کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”ہم راضی ہو گئے اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور آپ ﷺ کے نبی ہونے پر، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اللہ اور رسول کے غصے سے۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ یہ بات بار بار لوٹاتے رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ خاموش ہو گئے، تو کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اس آدمی کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں جو پورا سال روزہ رکھتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“ اللہ کے رسول ﷺ! اس کے بارے میں کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ فرمایا: ”کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ پھر انہوں نے کہا: وہ کیسا ہے جو دو دن افطار کرتا ہے اور ایک دن روزہ رکھتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ پیر کے روزے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور مجھ پر شریعت نازل ہوئی۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داؤد کا روزہ ہے۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یومِ عاشور کے روزے کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ پر امید رکھتا ہوں کہ وہ ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پہلے سال کے گناہ اور آنے والے سال کے گناہ معاف فرما دیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8399
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ آمَرَ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ مِنْ عَلِيٍّ وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے نہیں دیکھا کسی کو جو علی اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما سے زیادہ یومِ عاشور کے روزے کا حکم دینے والا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8400
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شبيه»