حدیث نمبر: 8401
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّوَيْهِ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ إِنْ شَاءَ اللهُ ". قَالَ: فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یومِ عاشور کا روزہ رکھا تو اس کے روزہ رکھنے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! یہ وہ دن ہے جس کی یہودی تعظیم کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آئندہ سال آئے گا تو ہم ان شاء اللہ نو تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ آپ ﷺ پہلے ہی وفات پا گئے۔
حدیث نمبر: 8402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَاضِي مِصْرَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ " ⦗٤٧٥⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ صُمْتُ الْيَوْمَ التَّاسِعَ مَخَافَةَ أَنْ يَفُوتَهُ يَوْمُ عَاشُورَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں آئندہ سلامت رہا تو ضرور میں نو تاریخ کا روزہ رکھوں گا۔“
(احمد بن یونس، ابن ابی ذئب کے حوالے سے متن میں بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا، اس خوف سے کہ یوم عاشورہ نہ رہ جائے“۔)
(احمد بن یونس، ابن ابی ذئب کے حوالے سے متن میں بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا، اس خوف سے کہ یوم عاشورہ نہ رہ جائے“۔)
حدیث نمبر: 8403
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَاضِي مِصْرَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَا: ثنا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَاسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَالَ: " عَنْ أِيِّ حَالِهِ تَسْأَلُ؟ " قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ، أِيَّ يَوْمٍ نَصُومُ؟ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا " قَالَ: قُلْتُ: كَذَلِكَ كَانَ يَصُومُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَعَمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ حَاجِبٍ وَكَأَنَّهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ صَوْمَهُ مَعَ الْعَاشِرِ وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ فِي الْجَوَابِ نَعَمْ مَا رُوِيَ مِنْ عَزْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَوْمِهِ وَالَّذِي يُبَيِّنُ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن اعرج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو وہ اپنی چادر کا تکیہ بنائے زمزم کے پاس بیٹھے تھے، میں ان کے پاس بیٹھ گیا، وہ بہترین مجلس تھی، میں نے کہا کہ تم کس صورت میں پوچھتے ہو؟ میں نے کہا: روزے کے متعلق کہ ہم کس دن کا روزہ رکھیں۔ انہوں نے کہا: ”جب محرم کا چاند دیکھو تو اسے شمار کرو، جب تم صبح کرو تو روزے کی حالت میں صبح کرو۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ محمد ﷺ یوں ہی روزہ رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 8404
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوا الْيَهُودَ " وَرَوَاهُ أَيْضًا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَذَلِكَ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ کہتے تھے: نو اور دس تاریخ کا روزہ رکھو، یہودیوں کی مخالفت کرو۔
حدیث نمبر: 8405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَئِنْ بُقِّيتُ لَآمُرَنَّ بِصِيَامِ يَوْمٍ قَبْلَهُ أَوْ يَوْمٍ بَعْدَهُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن علی رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں باقی رہا تو میں حکم دوں گا ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھنے کا یومِ عاشورہ کا۔“
حدیث نمبر: 8406
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ ⦗٤٧٦⦘ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا وَبَعْدَهُ يَوْمًا وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى: قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یومِ عاشورہ کے روزے رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، ان سے پہلے ایک دن روزہ رکھو یا اس کے بعد ایک دن۔“
(ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن اس سے پہلے روزہ رکھے یا اس کے بعد ایک دن۔“)
(ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن اس سے پہلے روزہ رکھے یا اس کے بعد ایک دن۔“)