کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں میں رمضان کی قضا کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 8395
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَقْضِيَ فِيهَا شَهْرَ رَمَضَانَ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس اپنے والد سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: ایسے کوئی ایام نہیں جن میں (نیک) عمل کرنا میرے نزدیک ان دنوں سے زیادہ محبوب ہو، اور نہ ہی ایسے کوئی ایام ہیں جن میں رمضان کی قضا دینا مجھے عشرہ ذوالحجہ سے زیادہ محبوب ہو۔
حدیث نمبر: 8396
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تَقْضِ رَمَضَانَ فِي ذِي الْحِجَّةِ وَلَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَظُنُّهُ مُنْفَرِدًا وَلَا تَحْتَجِمْ وَأَنْتَ صَائِمٌ " وَرُوِيَ أَيْضًا عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي كَرَاهِيَةِ الْقَضَاءِ فِي الْعَشْرِ وَهَذَا لِأَنَّهُ كَانَ يَرَى قَضَاءَهُ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ مُتَتَابِعًا فَإِذَا زَادَ مَا وَجَبَ عَلَيْهِ قَضَاؤُهُ عَلَى تِسْعَةِ أَيَّامٍ انْقَطَعَ تَتَابُعُهُ بِيَوْمِ النَّحْرِ وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ اور ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رمضان کی قضا عشرہ ذی الحجہ میں نہ دو، اور نہ ہی صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھو اور نہ ہی حالتِ روزہ میں سنگی لگواؤ۔
(اس عشرے میں قضا دینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ قضا کو متواتر جانتے تھے۔ سو جب قضائے وجوب نو سے زیادہ ہو جائے تو اس کا تواتر یوم النحر اور ایام تشریق کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔)
(اس عشرے میں قضا دینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ قضا کو متواتر جانتے تھے۔ سو جب قضائے وجوب نو سے زیادہ ہو جائے تو اس کا تواتر یوم النحر اور ایام تشریق کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔)