کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: لمبے سفر میں روزہ چھوڑنے کے جواز کا بیان، نہ کہ چھوٹے سفر میں۔
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: 184].
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ ”پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے۔“ [سورة البقرة: 184]
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٠٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ مَعَهُ، وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں فتح مکہ کے سال مکہ کی طرف روزے کی حالت میں نکلے، جب آپ ﷺ کدید کے پاس پہنچے تو افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی افطار کر لیا اور وہ اسے نیا کام سمجھتے تھے، تو نیا بھی رسول اللہ ﷺ کے حکم سے تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ وَهُوَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ فَلَمْ يَصُومُوا بَقِيَّةَ رَمَضَانَ شَيْئًا قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآخِرُ فَالْآخِرُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَصَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ سے نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ پندرہ ہزار مسلمان تھے اور یہ ہجرت کے آٹھویں سال کا آغاز تھا۔ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمان روزے کی حالت میں نکلے، پھر جب وہ کدید نامی جگہ پہنچے جو عسفان و قدید کے درمیان جگہ ہے تو آپ ﷺ نے افطار کیا اور مسلمانوں نے بھی افطار کیا۔ پھر بقیہ رمضان میں روزہ نہیں رکھا۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: افطار کرنا آخری حکم تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ہی اس کا حکم فرمایا تھا اور آخری پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت مکہ تشریف لائے اور رمضان کی تیرہ راتیں گزر چکی تھیں۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: افطار کرنا آخری حکم تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ہی اس کا حکم فرمایا تھا اور آخری پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت مکہ تشریف لائے اور رمضان کی تیرہ راتیں گزر چکی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ، أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأُكْرِيهِ، وَأَنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ، وَأَجِدُنِي أَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونَ دَيْنًا، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللهِ أَعْظَمَ لِأَجْرِي أَوْ أُفْطِرُ؟ قَالَ: " أِيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ " ⦗٤٠٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ: " أِيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ " وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ الْمُبَاحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سواری والا ہوں، میں اسے تیار رکھتا ہوں، اس پر سفر کرتا ہوں اور کرائے پر بھی چلاتا ہوں، بسا اوقات یہ مہینہ مجھ پر آجاتا ہے، میں طاقت بھی رکھتا ہوں اور جوان بھی ہوں، اے اللہ کے رسول! روزہ رکھنا میرے لیے آسان ہے اس سے کہ میں اسے مؤخر کر دوں اور وہ مجھ پر قرض بنا رہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ رکھوں اور یہ میرے لیے برابر اجر ہے یا پھر افطار کرتا رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمزہ! جیسے تو چاہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجَوْنِيُّ، ثنا ابْنُ زُغْبَةَ يَعْنِي عِيسَى بْنَ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ بِدِمَشْقَ إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ، وَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ أُنَاسٌ، فَكَرِهَ ذَلِكَ آخَرُونَ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ، أَنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَ اللَّيْثُ: الْأَمْرُ الَّذِي اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ وَلَا يُفْطِرُوا إِلَّا فِي مَسِيرَةِ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ، فِي كُلِّ بَرِيدٍ اثْنَا عَشَرَ مِيلًا قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَالَّذِي رُوِّينَا عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ إِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ ذَهَبَ فِيهِ إِلَى ظَاهِرِ الْآيَةِ فِي الرُّخْصَةِ فِي السَّفَرِ، وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ: رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، أَيْ فِي قَبُولِ الرُّخْصَةِ، لَا فِي تَقْدِيرِ السَّفَرِ الَّذِي أَفْطَرَ فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
منصور کلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ دمشق میں اپنی بستی سے نکلے اور یہ تین میل دور ہے، یہ سفر رمضان میں تھا۔ پھر انہوں نے افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا اور کچھ نے اسے ناپسند کیا۔ جب وہ اپنی بستی کی طرف پلٹے تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے ایسا معاملہ دیکھا ہے جس کا مجھے خیال نہیں تھا، میں نے دیکھا ہے کہ قوم رسول اللہ ﷺ کے راستے سے بے رغبتی کر رہی ہے اور صحابہ کے طریقے سے بھی۔“ یہ بات انہوں نے ان کے لیے کہی جنہوں نے روزہ رکھا تھا۔ تب انہوں نے کہا: ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس بلا لے۔“ لیث کہتے ہیں: جس پر لوگوں کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ قصر نہ کریں، نہ نماز اور نہ ہی روزہ افطار کریں، مگر چار برد کے سفر پر۔ برد میں بارہ میل ہوتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: جو روایت دحیہ کلبی سے ہے، اگر وہ صحیح ہے تو گویا وہ ظاہرِ آیت کی طرف گئے ہیں جس کی سفر میں اجازت ہے۔ اس قول سے مراد رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف رغبت ہے، یعنی رخصت کو قبول کرنے میں، نہ یہ کہ اس سفر کی وجہ سے جس میں آپ ﷺ نے افطار کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: جو روایت دحیہ کلبی سے ہے، اگر وہ صحیح ہے تو گویا وہ ظاہرِ آیت کی طرف گئے ہیں جس کی سفر میں اجازت ہے۔ اس قول سے مراد رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف رغبت ہے، یعنی رخصت کو قبول کرنے میں، نہ یہ کہ اس سفر کی وجہ سے جس میں آپ ﷺ نے افطار کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصُرُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جنگل کی طرف جاتے، مگر نہ افطار کرتے اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔