السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: جواز الفطر في السفر القاصد دون القصير باب: لمبے سفر میں روزہ چھوڑنے کے جواز کا بیان، نہ کہ چھوٹے سفر میں۔
حدیث نمبر: 8143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ، أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأُكْرِيهِ، وَأَنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ، وَأَجِدُنِي أَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونَ دَيْنًا، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللهِ أَعْظَمَ لِأَجْرِي أَوْ أُفْطِرُ؟ قَالَ: " أِيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ " ⦗٤٠٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ: " أِيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ " وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ الْمُبَاحِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سواری والا ہوں، میں اسے تیار رکھتا ہوں، اس پر سفر کرتا ہوں اور کرائے پر بھی چلاتا ہوں، بسا اوقات یہ مہینہ مجھ پر آجاتا ہے، میں طاقت بھی رکھتا ہوں اور جوان بھی ہوں، اے اللہ کے رسول! روزہ رکھنا میرے لیے آسان ہے اس سے کہ میں اسے مؤخر کر دوں اور وہ مجھ پر قرض بنا رہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ رکھوں اور یہ میرے لیے برابر اجر ہے یا پھر افطار کرتا رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمزہ! جیسے تو چاہے۔“