السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: جواز الفطر في السفر القاصد دون القصير باب: لمبے سفر میں روزہ چھوڑنے کے جواز کا بیان، نہ کہ چھوٹے سفر میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجَوْنِيُّ، ثنا ابْنُ زُغْبَةَ يَعْنِي عِيسَى بْنَ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ بِدِمَشْقَ إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ، وَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ أُنَاسٌ، فَكَرِهَ ذَلِكَ آخَرُونَ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ، أَنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَ اللَّيْثُ: الْأَمْرُ الَّذِي اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ وَلَا يُفْطِرُوا إِلَّا فِي مَسِيرَةِ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ، فِي كُلِّ بَرِيدٍ اثْنَا عَشَرَ مِيلًا قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَالَّذِي رُوِّينَا عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ إِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ ذَهَبَ فِيهِ إِلَى ظَاهِرِ الْآيَةِ فِي الرُّخْصَةِ فِي السَّفَرِ، وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ: رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، أَيْ فِي قَبُولِ الرُّخْصَةِ، لَا فِي تَقْدِيرِ السَّفَرِ الَّذِي أَفْطَرَ فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.منصور کلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ دمشق میں اپنی بستی سے نکلے اور یہ تین میل دور ہے، یہ سفر رمضان میں تھا۔ پھر انہوں نے افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا اور کچھ نے اسے ناپسند کیا۔ جب وہ اپنی بستی کی طرف پلٹے تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے ایسا معاملہ دیکھا ہے جس کا مجھے خیال نہیں تھا، میں نے دیکھا ہے کہ قوم رسول اللہ ﷺ کے راستے سے بے رغبتی کر رہی ہے اور صحابہ کے طریقے سے بھی۔“ یہ بات انہوں نے ان کے لیے کہی جنہوں نے روزہ رکھا تھا۔ تب انہوں نے کہا: ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس بلا لے۔“ لیث کہتے ہیں: جس پر لوگوں کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ قصر نہ کریں، نہ نماز اور نہ ہی روزہ افطار کریں، مگر چار برد کے سفر پر۔ برد میں بارہ میل ہوتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: جو روایت دحیہ کلبی سے ہے، اگر وہ صحیح ہے تو گویا وہ ظاہرِ آیت کی طرف گئے ہیں جس کی سفر میں اجازت ہے۔ اس قول سے مراد رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف رغبت ہے، یعنی رخصت کو قبول کرنے میں، نہ یہ کہ اس سفر کی وجہ سے جس میں آپ ﷺ نے افطار کیا۔