کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص پر سختی کا بیان جس نے ماہِ رمضان کا کوئی روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ، قَالَ حَبِيبٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ وَإِنْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَبُو الْمُطَوِّسِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ الْمُطَوِّسِ، وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ أَبُوهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَمْ لَا، وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ مَتْنَهُ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کا ایک روزہ کسی عذر کے بغیر چھوڑا جو اللہ تعالیٰ نے اسے رخصت دی تھی، تو وہ اس کی قضا نہیں دے سکتا اگرچہ وہ پورا سال روزے رکھے۔“
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ابو المطوس کا نام یزید بن مطوس ہے، وہ حدیث میں متفرد ہے، اور مجھے معلوم نہیں کہ ان کے والد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے یا نہیں۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ابو المطوس کا نام یزید بن مطوس ہے، وہ حدیث میں متفرد ہے، اور مجھے معلوم نہیں کہ ان کے والد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے یا نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مِجْشَرٍ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ حَتَّى يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا ایک روزہ عذر کے بغیر چھوڑا تو اس کو پوری زندگی کے روزے فائدہ نہیں دیں گے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مَنْ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ ثُمَّ قَضَى طُولَ الدَّهْرِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ " عَبْدُ الْمَلِكِ هَذَا أَظُنُّهُ ابْنَ حُسَيْنٍ النَّخَعِيِّ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان میں ایک روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑا، پھر لمبا عرصہ اسے قضا کرتا رہا تو اس سے قبول نہیں ہو گا۔
میرے خیال میں یہ عبدالملک، ابن حسین نخعی ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔
میرے خیال میں یہ عبدالملک، ابن حسین نخعی ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي رَجُلٍ أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ يَوْمًا مُتَعَمِّدًا قَالَا: " مَا نَدْرِي مَا كَفَّارَتُهُ، يَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ، وَيَسْتَغْفِرُ اللهَ " ⦗٣٨٦⦘ وَرُوِيَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالشَّعْبِيِّ نَحْوُ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فِي أَنْ لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم (نخعی) اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ عمداً افطار کیا: ہم نہیں جانتے کہ اس کا کفارہ کیا ہے، وہ اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے اور توبہ و استغفار کرے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الَّذِي أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ بِكَفَّارَةِ الظِّهَارِ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن سالم، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو حکم دیا جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ چھوڑا کہ ”اس کا کفارہ ظہار کا کفارہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَهَذَا اخْتِصَارٌ وَقَعَ مِنْ هُشَيْمٍ لِلْحَدِيثِ، فَقَدْ رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَمُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُفَسَّرًا فِي قِصَّةِ الْوَاقِعِ عَلَى أَهْلِهِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَهَكَذَا كُلُّ حَدِيثٍ كَانَ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ وَجْهٍ مُطْلَقًا، فَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُبَيَّنًا مُفَسَّرًا فِي قِصَّةِ الْوِقَاعِ، وَلَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِطْرِ بِالْأَكْلِ شَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث اختصار کے ساتھ نقل فرماتے ہیں۔
جریر نے اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ اس میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہونے والے واقعے کی تفسیر کو بیان کیا ہے اور دوسری سند سے بھی اسی قصے کو واضح بیان کیا کہ آپ ﷺ کی طرف سے روزہ توڑنے والے کے کھانے میں کچھ ثابت نہیں۔
جریر نے اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ اس میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہونے والے واقعے کی تفسیر کو بیان کیا ہے اور دوسری سند سے بھی اسی قصے کو واضح بیان کیا کہ آپ ﷺ کی طرف سے روزہ توڑنے والے کے کھانے میں کچھ ثابت نہیں۔