السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: التغليظ على من أفطر يوما من شهر رمضان متعمدا من غير عذر باب: اس شخص پر سختی کا بیان جس نے ماہِ رمضان کا کوئی روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 8066
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مِجْشَرٍ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ حَتَّى يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا ایک روزہ عذر کے بغیر چھوڑا تو اس کو پوری زندگی کے روزے فائدہ نہیں دیں گے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔