السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: التغليظ على من أفطر يوما من شهر رمضان متعمدا من غير عذر باب: اس شخص پر سختی کا بیان جس نے ماہِ رمضان کا کوئی روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 8067
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مَنْ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ ثُمَّ قَضَى طُولَ الدَّهْرِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ " عَبْدُ الْمَلِكِ هَذَا أَظُنُّهُ ابْنَ حُسَيْنٍ النَّخَعِيِّ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان میں ایک روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑا، پھر لمبا عرصہ اسے قضا کرتا رہا تو اس سے قبول نہیں ہو گا۔
میرے خیال میں یہ عبدالملک، ابن حسین نخعی ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔