کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سوال کرنے کی کراہت اور اسے ترک کرنے کی ترغیب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ⦗٣٢٩⦘ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى الشَّامِ نَسْأَلُ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: أَتَيْتُمُ الشَّامَ تَسْأَلُونَ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِالرَّجُلِ حَتَّى يَلْقَى اللهَ وَمَا فِي وَجْهِهِ مُزْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عْنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم شام کی طرف نکلے، جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم شام سے مانگنے آئے ہو؟ لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جو انسان ہمیشہ مانگتا رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7870
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لوگوں سے اپنا مال بڑھانے کے لیے مانگا تو وہ انگارہ مانگ رہا ہے، چاہے وہ اسے کم کرلے یا زیادہ کرلے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7871
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتَخْرُجُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا كَارِهٌ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهَا " لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے بھائی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ» ”کسی سے چمٹ کر نہ مانگو، اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز نہیں مانگتا اور اسے میں اپنے پاس سے دے دیتا ہوں، مگر میں اسے ناپسند کرتا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔““
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7872
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا. قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فأبى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ، فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ. ⦗٣٣٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا، آپ ﷺ نے مجھے دے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال میٹھا و سرسبز ہے، جو اسے دل کی سخاوت سے لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو دل کی چاہت سے لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جاتی اور وہ اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ حکیم کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اس ذات کی قسم! آج کے بعد میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ جاؤں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حکیم کو دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا تاکہ اسے دیں مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، اے لوگو! میں تمہیں حکیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہ بناتا ہوں، میں نے اس غنیمت میں سے اس کا حق پیش کیا مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا، تو حکیم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی سے کچھ نہ لیا حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7873
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ أَوْ سَبْعَةٌ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " وَكُنَّا حَدِيثِي عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ " فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ "، لَفْظُ حَدِيثِ الْحَافِظِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس نو، آٹھ، یا سات افراد تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ کی بیعت نہیں کرو گے؟“ اور ہم بیعت کرنے والوں میں نئے نئے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کر لی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ کی بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے بیعت کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کر لی ہے، ہم کس بات پر بیعت کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ شرک نہیں کرو گے اور پانچ نمازیں پڑھو گے اور تم اطاعت کرو گے۔“ ایک بات آپ ﷺ نے آہستہ سے کہی: ”اور تم لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے۔“ البتہ اگر جماعت میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی کو پکڑانے کے لیے بھی نہ کہتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7874
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يتَقَبَّلْ لِي بِوَاحِدَةٍ أَتَقَبَّلْ لَهُ بِالْجَنَّةِ " قَالَ ثَوْبَانُ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا ". قَالَ: فَلَرُبَّمَا سَقَطَ سَوْطُ ثَوْبَانَ وَهُوَ عَلَى الْبَعِيرِ فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ثَوْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
رسول اللہ ﷺ کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی ایک بات کو قبول کرے گا میں اسے جنت کا وعدہ دیتا ہوں۔“
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں (تیار ہوں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو لوگوں سے کچھ نہ مانگ۔“ وہ کہتے ہیں: بسا اوقات میرا کوڑا گر جاتا اور وہ اونٹ پر ہوتے تو بھی کسی سے نہ کہتے کہ مجھے پکڑاؤ، یہاں تک کہ خود اترتے اور اسے پکڑ لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7875
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»