السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية السؤال والترغيب في تركه باب: سوال کرنے کی کراہت اور اسے ترک کرنے کی ترغیب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا. قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فأبى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ، فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ. ⦗٣٣٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا، آپ ﷺ نے مجھے دے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال میٹھا و سرسبز ہے، جو اسے دل کی سخاوت سے لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو دل کی چاہت سے لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جاتی اور وہ اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ حکیم کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اس ذات کی قسم! آج کے بعد میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ جاؤں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حکیم کو دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا تاکہ اسے دیں مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، اے لوگو! میں تمہیں حکیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہ بناتا ہوں، میں نے اس غنیمت میں سے اس کا حق پیش کیا مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا، تو حکیم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی سے کچھ نہ لیا حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے۔